The news is by your side.

Advertisement

اسرائیلی تاریخ میں پہلی مرتبہ وزیرِاعظم پر کرپشن کے الزامات پر فرد جرم عائد

تل ابیب : اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو پر رشوت، فراڈ کے 3 کیسزمیں فرد جرم عائد کردی گئی ،نیتن یاہو نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستعفی نہیں ہوں گا،جھوٹ کا ڈٹ کر مقابلہ کروں گا۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نتن یاہو پر بدعنوانی، دھوکا دہی اور رشوت کے تین الزامات ثابت ہوگئے، اسرائیلی تاریخ میں پہلی مرتبہ دورانِ اقتدار کسی وزیرِ اعظم پر ایسا جرم ثابت ہوا ہے۔

اٹارنی جنرل ایوی ہائی مینڈل بِلٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے اسرائیلی وزیرِاعظم پر رشوت، فراڈ، اور بدعنوانی کے تین مقدمات میں فردِ جرم عائد کردی اور ان مقدمات کو 4000، 2000 اور 1000 کے نام دیئے گئے ہیں۔

ایک ماہ تک ان مقدمات پر اٹارنی جنرل کے دفتر میں دھواں دھار بحث ہوئی اور گزشتہ چار روز سے اس کی سماعت جاری تھی، جس میں نتن یاہو کے وکلا نے صفائی میں اپنے دلائل دیئے تھے۔

ان میں 4000 نامی کیس کو سب سے سنجیدہ قرار دیا گیا ہے، جس میں نتن یاہو اور ان کے تاجر دوست شول ایلووِچ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا، جس میں نتن یاہو نے شول کی ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی اور والہ نیوز ویب سائٹ کو 50 کروڑ ڈالر کا فائدہ پہنچایا تھا اور اس کے بدلے ویب سائٹ نے نتن یاہو کو خصوصی اہمیت اور کوریج دی تھی۔

بنجامن نتن یاہو اور ان کی بیگم نے بار بار ویب سائٹ سے اپنی خبروں کی درخواست کی اور جواب میں شول ایلووِچ نے اپنے تمام ایڈیٹر پر دباؤ بڑھا کر نتن یاہو اور ان کے مفادات کوتقویت دی تاہم نتن یاہو کے وکیل نے اس اس سارے عمل کو رشوت ستانی سے ماورا قرار دیا۔

دوسرا کیس بھی ایسا ہی ہے, جس میں نتن یاہو نے ایک اخبار کو رشوت دی اور مخالف اخبار کی تعداد کم کروانے کےلیے دباؤ ڈالا اور بد عنوانی سمیت اعتماد کو ٹھیس پہنچانے جیسے جرم کے مرتکب ہوئے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے ان الزامات کو اپنے خلاف تختہ الٹنے کی کوشش قرار دیا اور اپنے خلاف رشوت، فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے تین مختلف مقدمات قائم ہونے کے باوجود اقتدار میں رہنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا میں جھوٹ کو جیتنے نہیں دوں گا۔

تقریر میں نیتن یاہو نے عدلیہ، پولیس اور دیگر پر ان کے خلاف سیاسی الزامات کے ذریعے سازش کرنے کا الزام عائد کیا اور تفتیش کاروں پر گواہوں کو جھوٹ بولنے کے لیے رشوت دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا اس داغدار مرحلے میں تفتیش کار سچ کی تلاش میں نہیں بلکہ میرے پیچھے تھے۔

نیتن یاہو پر الزام ہے کہ انھوں نے دولت مند کاروباری شخصیات سے تحفے قبول کیے اور میڈیا میں زیادہ مثبت کوریج حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو نوازا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں