The news is by your side.

Advertisement

جہانگیر ترین اپنے جوابات سے ایف آئی اے ٹیم کو مطمئن نہ کر سکے، ذرائع

لاہور: جہانگیر ترین اور علی ترین کی ایف آئی اے میں پیشی کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں اپنے جوابات سے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی ٹیم کو مطمئن نہیں کر سکے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق چینی اسکینڈل میں ایف آئی اے میں پیشی کے موقع پر سوالات کے جواب میں جہانگیر ترین نے کہا انھیں نہیں معلوم کہ جے کے فارمز کے بیچے گئے اثاثوں کی فہرست کہاں ہے۔

ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے سوال کیا کہ کمپنی کی 4 ارب قیمت کا تعین کس نے اور کیسے کیا، گنے کا کاروبار بیچنے کی قیمت چار ارب پینتیس کروڑ روپے کیسے لگائی گئی؟ جہانگیر ترین نے جواب دیا کہ 4.35 ارب قیمت مل کے ملازمین نے مقرر کی تھی، علی ترین نے اپنے رقم خرچ کرنے کے حوالے سے جواب میں کہا کہ 4.35 ارب روپے سے خاندان کی کمپنی کے ذمے قرضے اتارے۔

جہانگیر ترین نے ایف آئی اے ٹیم کو بتایا کہ ان کے بیرون ملک اثاثے ایف بی آر میں ظاہر ہیں۔

بڑی پیش رفت ، جہانگیر ترین خاندان کے 36 بینک اکاونٹس منجمد

انھوں نے کہا کہ ایم سی بی کے کہنے پر انھوں نے فاروقی پلپ میں سرمایہ کاری کی تھی، لیکن اس سرمایہ کاری میں 3 ارب روپے کا نقصان ہوا، اس سلسلے میں پبلک شیئر ہولڈرز سے کوئی حقیقت نہیں چھپائی گئی۔

واضح رہے کہ ایف آئی اے نے جہانگیر ترین اور ان کے صاحب زادے کو 7 ارب سے زائد کے مبینہ مالیاتی فراڈ کی تفتیش کے لیے طلب کیا تھا، جہانگیر ترین کے خلاف ایف آئی اے میں 2 ایف آئی آر درج ہیں۔ دونوں باپ بیٹے سے پانچ پانچ سوالات پوچھےگئے تھے، جہانگیر ترین نے 10 اپریل تک ضمانت قبل از گرفتاری بھی کرا رکھی ہے۔

شیئر ہولڈرز کے ساتھ فراڈ، ایف آئی اے نے جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے سے 5 اہم سوالات پوچھ لیے

آج وفاقی تحقیقاتی ادارے نے چینی سٹہ مافیا اور جے ڈی ڈبلیو کیس میں علی ترین کے 21، اور جہانگیر ترین کے 14 اور اہلیہ کا ایک اکاؤنٹ منجمد کیا ہے، ذرائع ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ان اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے موجود ہیں، 9 سرکاری، نجی بینکوں میں جہانگیر ترین اور ان کے خاندان کے 36 اکاونٹس منجمد کیےگئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں