The news is by your side.

Advertisement

دنیا میں ٹرمپ اورغلامانِ مصطفیٰ کے درمیان مقابلہ ہے: سراج الحق

ڈیرہ اسماعیل خان : امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی کرپٹ اشرفیہ ہماری محرومیوں کی ذمہ دار ہے ‘ دنیا میں ٹرمپ اور غلامان مصطفیٰ ﷺ میں مقابلہ ہے عوام ٹرمپ کے ساتھ نہیں بلکہ غلامان مصطفیﷺ کے ساتھ ہے

تفصیلات کے مطابق سراج الق نے ان خیالات کا اظہار  درابن میں جماعت اسلامی کے زیراہتمام جلسہ عام سے خطاب کے دوران کیا۔

اس موقع پر صوبائی امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخواہ مشتاق احمد خان افغانی ‘ ضلعی امیر جماعت اسلامی زاہد محب اللہ ایڈوکیٹ ‘ سابق تحصیل ناظم ڈیرہ سردار فتح اللہ خان میاں خیل ‘ سابق صدر ڈسٹرکٹ بار ڈیرہ سردار قیضار خان میاں خیل ‘ سابق ضلعی امیر جماعت اسلامی مولانا سلیم اللہ ارشد ‘ عبدالمتین بابڑ و دیگر موجود تھے ۔


گرہ مٹ میں ایک بچی کو کپڑوں سے محروم کیا گیا جو اس ظلم و جبر کے خلاف
بغاوت نہیں کرتا وہ بڑا منافق ہے‘ ملک میں ظلم اور جبر کا نظام ہے


امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا کہ عوام دنیا ئے حسنہ چاہتے ہیں جس میں ایک انسان دوسرے انسان کا غلام نہ ہو’ کرپشن غربت ‘ مہنگائی ‘ لوڈشیڈنگ اور سفارش نہ ہو۔

انہوں نے کہا ہمارے نام نہاد حکمران ایسی مرغی کی ماند ہیں جو دانہ ایک جگہ کھاتی ہے اور انڈے دوسری جگہ دیتی ہے ۔ ہم نے اعلان کیا ہے جنہوں نے چوری اور لوٹ مار کی ہے اگر وہ خانہ کعبہ کے غلاف میں بھی چھپ گئے ہیں تو ان کو ڈھونڈ کر عوام کے کٹہرے میں لائیں گے ۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ نوجوان طاقت ور ہیں لیکن بے روزگار ہیں ‘ مہنگائی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ نہیں چاہتے کہ ملک میں کرپشن ہو کیونکہ غریب کرپشن میں ملوث نہیں‘ ہمارے حکمران کرپٹ ہیں۔ جس طرح نواز شریف کو عدالت سے سزا ملی اسی طرح ہم چاہتے ہیں کہ پانامہ لیکس میں ملوث 436 ملوث افراد کا بھی احتساب ہو۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نظریاتی کرپشن ‘مالیاتی کرپشن اور اخلاقی کرپشن میں جو بھی ملوث ہے ہم ان کا محاسبہ چاہتے ہیں‘ جولوگ سیاست میں آنا چاہتے ہیں اب ان کو بتانا ہوگا کہ ذرائع آمدن کیا ہے؟۔

بعدازاں امیر جماعت اسلامی سراج الحق گرہ مٹ میں شریفاں بی بی سے ملاقات کے لیے گئے اور متاثرہ بچی سے ملاقات کے دوران انہیں جماعت اسلامی کی طرف سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں