The news is by your side.

Advertisement

ڈاکٹر نمرتا کماری کی موت خودکشی یا قتل ؟ جوڈیشل انکوائری رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات

لاڑکانہ : آصفہ ڈینٹل کالج کی طالبہ نمرتا کماری کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ میں موت کو خودکشی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نمرتا کماری کے قتل کے شواہد نہیں ملے۔

تفصیلات کے مطابق لاڑکانہ میں آصفہ ڈینٹل کالج کی طالبہ ڈاکٹر نمرتا کماری کی جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ منظر عام پر آگئی ،جوڈیشل انکوائری رپورٹ 18 صفحات پر مشتمل ہے۔

جس میں بتایا گیا کہ ڈاکٹر نمرتا چندانی کی موت خودکشی کے باعث ہوئی ، والدین کا سخت رویہ اور کلاس فیلو کی بے وفائی خودکشی کاسبب بنی۔

جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نمرتا سخت ذہنی دباؤ کے باعث خودکشی پر مجبور تھی تاہم نمرتاکماری قتل کے شواہد نہیں ملے۔

رپورٹ کے مطابق پوسٹ مارٹم کرنے والی ڈاکٹر کی رپورٹ پیچیدہ اور الجھانے والی تھی، ڈاکٹر نمرتا پوسٹ مارٹم میں بتا نہیں سکیں کہ یہ قتل تھا یا خودکشی، جس کے بعد ڈاکٹر کے خلاف کارروائی کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ کلاس فیلو علی شان نے مہران ابڑو کوصبح 10 بجے میسیج کیا نمرتا اب نہیں رہی اور انکشاف کیا کہ نمرتا نے 11 اور 12 بجے 2خواتین سے ملاقات کی، علی شان میمن سے تحقیقات کی جائیں کہ اس نے10 بجےمیسج کس بنیادپرکیا۔

جوڈیشل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نمرتا کے جسم پر تشدد کے نشانات نہ تھے اوریہ قتل بھی نہیں ، ہاسٹل کے کمرے کا تالہ توڑے جانے کے وقت نمرتا کی حالت خراب تھی، انٹر لاک نہ ہونے کے باعث ڈاکٹر نمرتا کا کمرا زبردستی توڑا گیا۔

رپورٹ کے مطابق متعدد طلبہ و طالبات کمرے میں داخل ہوئے،کرائم سین محفوظ نہ ہوسکا۔

خیال رہے جوڈیشل انکوائری رپورٹ 30 نومبر 2019 کو ہوم ڈیپارٹمنٹ سندھ کو بھیجی گئی ، جوڈیشل انکوائری نے 45 افراد کے بیان قلمبند کیے۔

یاد رہے 16 ستمبر2019 کو بی بی آصفہ ڈینٹل کالج کی طالبہ کی ہاسٹل سے لاش برآمد ہوئی تھی ، نمرتا کے بھائی ڈاکٹر وشال نے خودکشی کے امکان کو رد کر دیا تھا۔

نمرتا کے بھائی کے مطابق اس کی بہن خود کشی نہیں کرسکتی، اسے قتل کیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں