The news is by your side.

Advertisement

سوئیڈش حکام جولین کی حوالگی چاہتے ہیں تو مقدمہ چلانے کی یقین دہانی کرائیں، برطانوی ایم پیز

لندن : برطانوی پارلیمنٹ کے درجنوں اراکین نے وزیر داخلہ کو جولین اسانج سے متعلق خط ارسال کردیا، ایم پیز کا مؤقف ہے کہ اگر سوئیڈش حکام وکی لیکس کے بانی کی حوالگی چاہتے ہیں تو اس پر مقدمات چلانے کی یقین دہانی کرائیں۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں میٹروپولیٹن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کو خواتین سے زیادتی کے الزام میں گرفتار کرکے مجسٹریٹ کورٹ میں پیش کیا گیا تھا جہاں انہیں ریمارنڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ اسٹیلا کریسزی نے 70 ایم پیز کے دستخط شدہ خط کو بذریعہ ٹویٹ ساجد جاوید تک پہنچا دیا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق وکی لیکس کے شریک بانی کو جمعرات کے روز امریکا کی جانب سے کی گئی حوالگی کی درخواست پر گرفتار کیا گیا ہے جہاں انہیں کمپیوٹر ہیکننگ کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

خبر رساں ادارے کا کہنا ہےکہ لندن میں واقع ایکواڈور کے سفارت خانے میں 7 برس گزارنے والے جولین اسانج سوئیڈن میں خواتین سے جنسی زیادتی کے ٹرائل سے بچ کر نکل گئے تھے، واضح رہے کہ بانی وکی لیکس بارہا خواتین سے زیادتی کی تردید کرچکے ہیں۔

اسانج کا کہنا ہے کہ میں نے سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں دو خواتین کے ساتھ مکمل اتفاق و رضاکارانہ طور جنسی تعلق قائم کیا تھے۔

سوئیڈش پراسیکیوٹر نے سنہ 2017 میں جولین کے خلاف چلنے والے جنسی زیادتی مقدمات چھوڑ دئیے تھے کیونکہ وہ جولین غیر ملکی سفارت خانے میں مقیم تھے اور وہ جولین کو مذکورہ الزامات سے آگاہ کرنے میں ناکام تھے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ شریک بانی وکی لیکس پر خواتین سے جنسی ہراسگی کے دو مزید مقدمات چل رہے تھے جنہیں غیر قانونی دباؤ کے باعث سنہ 2015 میں چھوڑ دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں : وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے قریبی ساتھی بھی ایکواڈور سے گرفتار

برطانوی پولیس نے وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کو گرفتار کرلیا

خیال رہے کہ وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج کو لندن کی ایک عدالت نے ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے کر مقدمے کی سماعت ملتوی کر دی تھی۔

جج مائیکل سنو نے کہا کہ ملزم نے ایکواڈور کے سفارت خانے میں پناہ لے کر اپنی ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کی تھی۔

استغاثہ کے دلائل کی روشنی میں اس خلاف ورزی پر جولیان اسانج کو ملکی قانون کے مطابق کم از کم ایک برس کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں