site
stats
عالمی خبریں

مسلمان امریکی فوجی کے والد پر امریکا میں سفری پابندی لگانے کا خدشہ

واشنگٹن : عراق میں مارے جانے والے مسلمان امریکی فوجی کے والد خضر خان پر امریکا میں سفری پابندی لگانے کا خدشہ ہے۔

امریکا کیلئے جان دینے والے فوجی کا والد امریکا میں مشکلات کا شکار ہے، عراقی جنگ میں مارے گئے پاکستانی نژاد امریکی فوجی کے والد خضر خان پر سفری پابندی لگنے کا خدشہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے ان کی سفری آزادی کا دوبارہ جائزہ لینے کا اعلان کردیا، خضر خان کا کہنا تھا کہ انہیں نوٹس موصول ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کے امریکا میں سفر کرنے کے حق میں دوبارہ جائزہ لیا جارہا ہے، جس کے بعد انہوں نے کینیڈا میں ایک تقریب میں شرکت کا پروگرام منسوخ کردیا ہے۔

khizar-2

خضر خان کا کہنا تھا کہ انہیں اس حوالے سے کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی، ٹرمپ انتظامیہ کا یہ اقدام نہ صرف ان کے لیے بلکہ ان تمام امریکیوں کے لیے تشویش کا باعث ہے کہ جو دنیا بھر میں آزادانہ سفر کا حق رکھتے ہیں۔

خیال رہے انتخابی مہم کے دوران عراقی جنگ میں ہلاک ہونے والے پاکستانی نژاد امریکی فوجی کے والد خضر خان اور امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان لفظی جنگ شروع ہوئی تھی، امریکی فوجی کیپٹن ہمایوں خان کے والد خضر خان نے اپنے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ‘سیاہ روح’ کا حامل شخص قرار دے دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی جیسے خوبصورت ترین ملک کے سربراہ بننے کی اہلیت نہیں رکھتے جبکہ انھوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کے کنونشن سے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ پر شدید تنقید کی تھی اور عراق میں ہلاک ہونے والے اپنے بیٹے کو خراج تحسین پیش کیا تھا۔

khizar

یاد رہے کہ خضر خان کے بیٹے کیپٹن ہمایوں خان 2004 میں عراق میں ایک کار بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے تھے، اس وقت ان کی عمر 27 سال تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top