The news is by your side.

Advertisement

کوہاٹ: حریم قتل کیس کا معمہ حل، خاتون گرفتار

خیبرپختون خوا کے ضلع کوہاٹ میں قتل ہونے والی تین سالہ حریم فاطمہ کے قتل کا معمہ حل ہوگیا۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز کے مطابق ڈائریکٹر جنرل  پولیس کوہاٹ نے حریم فاطمہ قتل کیس میں ایک گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایک خاتون نے رشتہ نہ ہونے پر انتہائی قدم اٹھایا، ملزمہ کی شناخت رابعہ کے نام سے ہوئی جو دور کی رشتہ دار ہے۔

پولیس افسر کے مطابق خاتون نے اعتراف کیا کہ وہ حریم کے چچا سے شادی کرنے کی خواہش مند تھی مگر بچی کے والد فرہاد اس کے خلاف تھے۔

پولیس ذرائع کے مطابق حریم فاطمہ کے والد رابعہ نامی خاتون سے اپنے بھائی کی شادی کے خواہش مند نہیں تھے، خاتون نے اپنا انتقام لینے اور شادی میں والد کو رکاوٹ سمجھنے پر حریم کو قتل کیا۔

خاتون نے اعتراف کیا کہ رشتے کا انکار اور نہ ماننےکے بعد اُس نے انتقام لینے کا فیصلہ کیا اور بچی کو اغوا کرنے کے بعد گلہ دبا کر قتل کیا۔

واضح رہے کہ 23 مارچ کو خیبرپختون خوا کے ضلع کوہاٹ میں دادا دادی کے ساتھ رہنے والی حریم فاطمہ پہلی بار گھر سے اکیلی نکلی اور پھر اغوا ہوگئی تھی، اہل خانہ نے اپنی مدد آپ کے تحت بچی کو تلاش کرنے کی کوشش کی مگر انہیں ناکامی کا سامنا رہا۔

مزید پڑھیں: کوہاٹ: حریم قتل کیس میں اہم پیشرفت

اغوا کے دو  روز بعد بچی کی لاش نالے کے قریب سے برآمد ہوئی تھی، جس کے بعد پولیس نے اُسے تحویل میں لے کر اسپتال منتقل کیا تھا۔

چار سالہ حریم کا قتل: ’بیٹی پہلی بار گھر سے اکیلی نکلی اور یہی آخری بار ثابت ہوا‘

پولیس نے علاقہ مکینوں کے احتجاج کے بعد قتل کا مقدمہ درج کر کے ملزمان کی جلد گرفتاری کی یقین دہانی کرائی۔ پانچ روز بعد تھانہ صدر کی پولیس نے اہم سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں برقعہ اوڑھی خاتون کو دوڑتے دیکھا جاسکتا ہے جس کے ساتھ متوفیہ بھی موجود تھی، سی سی ٹی وی فوٹیج میں وہی مقام نظر آرہا ہے جہاں سے حریم کی لاش برآمد ہوئی تھی۔

640″ height=”450″ src=”https://www.youtube.com/embed/9px72qDeaUw” frameborder=”0″ allowfullscreen>

اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے متوفیہ کے والد فرہاد حسین نے کہا تھا کہ ’ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے، بچی میرے بغیر کبھی گھر سے باہر نہیں نکلی، اُس دن وہ پہلی بار گئی اور یہی آخری بار ثابت ہوا‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں