The news is by your side.

Advertisement

تحریک انصاف اور صوبہ جنوبی پنجاب محاذ کے درمیان صوبے کے لیے معاہدہ طے

اسلام آباد: تحریک انصاف اور صوبہ جنوبی پنجاب محاذ کے درمیان صوبے کے لیے معاہدہ طے پا گیا۔ مسلم لیگ ن کے منحرف رہنما خسرو بختیار کا کہنا ہے کہ عمران خان نے 100 روز میں عملی اقدام کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف اور صوبہ جنوبی پنجاب محاذ کے درمیان معاہدہ طے ہوگیا۔ معاہدے پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے دستخط کیے جبکہ صوبہ جنوبی پنجاب محاذ کی جانب سے خسرو بختیار اور بلخ شیر مزاری نے دستخط کیے۔

مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خسرو بختیار نے کہا کہ ہم پر کچھ تنقیدی وار بھی ہوئے ہیں۔ اپنا مقدمہ 9 اپریل کو عوام کے سامنے جدت کے ساتھ پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ خوشی ہے ایک جماعت نے ہمارے مطالبے کو منشور میں شامل کیا۔ مینار پاکستان پر جنوبی پنجاب کے عوام سے صوبے کا وعدہ کیا گیا۔ ملک کو چیلنجز درپیش ہیں، اقتدارمیں توازن کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ اکائیوں میں توازن لانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں پہلی بار نیا صوبہ بننے سے اکائیوں میں توازن آئے گا۔ ’پاکستان مضبوط ملک کے ساتھ مضبوط قوم بن کر بھی ابھرے گا‘۔

خسرو بختیار نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے عوام اب محکومی کی زندگی نہیں گزارنا چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان 22 سال سے ملک کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ’عمران خان اور تحریک انصاف کے ساتھ ایک ہونے کا فیصلہ کیا ہے، ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا، عمران خان نے 100 دن میں عملی اقدام کرنے کا وعدہ کیا ہے‘۔

خسرو بختیار نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے جنوبی پنجاب کے لیے جھنڈا اٹھایا لیکن سنجیدگی نہیں دکھائی، ن لیگ براجمان رہی لیکن پنجاب کے عوام کو تقسیم کیا۔ ’پاکستان کو سب سے پہلے اندرونی اتحاد کی ضرورت ہے، جنوبی پنجاب کے حکمران بھی وہاں کے مسائل حل نہ کر سکے‘۔


جنوبی پنجاب صوبے کا قیام ضروری ہے

مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو ایک قوم بنانا ہے۔

انہوں نے خسرو بختیار اور ان کی ٹیم کو شمولیت پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ 3 بار وزیر اعظم بننے والے بھی کہتے ہیں کہ نیا پاکستان بنائیں گے۔ لوگوں کو زندگی کا فیصلہ کرنے کاحق نہیں ہوگا تو مطمئن نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹے صوبوں کے اندر احساس محرومی بڑھتی جا رہی ہے۔ ’بجٹ میں لاہور پر زیادہ خرچ ہو رہا ہے۔ تین صوبے مل بھی جائیں تو پنجاب پھر بھی بڑا ہے، مشرقی پاکستان کے لوگوں کو بھی احساس محرومی تھا۔ اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہوں تو قومیں ترقی کرتی ہیں‘۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب صوبے کا قیام بے حد ضروری ہے۔ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کے خیبر پختونخواہ میں انضمام سے متعلق بھی جدوجہد کریں گے۔ امن و امان کی وجہ سے فاٹا کے عوام کو مشکلات رہیں۔ مقامی مسائل کو لوکل گورنمنٹ ہی سمجھتی ہے۔


معاہدہ کیا ہے؟

اے آر وائی نیوز نے معاہدے کی کاپی حاصل کرلی۔ عمران خان کے 11 نکات میں جنوبی پنجاب صوبے کا مطالبہ شامل ہے۔ 11 نکات میں شامل مطالبے کے تحت ایک کمیٹی بنائی جائے گی۔

کمیٹی جنوبی پنجاب سے متعلق اپنی سفارشات عمران خان کو پیش کرے گی۔ کمیٹی میں محاذ کے چیئرمین اور دیگر اراکین شامل ہوں گے۔ معاہدے کے مطابق ترقی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے پنجاب کی تقسیم ناگزیر ہے۔

صوبہ جنوبی پنجاب محاذ نے جنوبی پنجاب کے عوام کے لیے تحریک انصاف کے تحت جدوجہد کرنے کا عزم کیا ہے۔ معاہدے میں 100 دن میں صوبہ جنوبی پنجاب کے لیے عملی اقدامات کیے جانا شامل ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں