The news is by your side.

Advertisement

جلنے والی فیکٹری سے متعلق بڑا انکشاف، جاں بحق مزدوروں کے ناموں کی فہرست بھی جاری

کراچی: کورنگی مہران ٹاؤن میں فیکٹری میں آتش زدگی سے جاں بحق ہونے والے تمام 16 ورکرز کی فہرست جاری کر دی گئی ہے، جب کہ کے ڈی اے حکام نے فیکٹری سے متعلق غیر قانونی ہونے کا انکشاف کر دیا ہے، پلاٹ پر اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سوسائٹی قائم کی گئی تھی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق کورنگی میں واقع کیمیکل فیکٹری میں آگ سے جھلس کر جاں بحق ہونے والے 16 افراد کی عمریں 18 سے 40 کے درمیان ہیں، جن میں 4 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے،  اور ان میں دو بھائی بھی شامل ہیں۔

ایک ہی خاندان کے افراد میں دو بھائیوں کے علاوہ چچا اور بہنوئی شامل ہیں، سگے بھائیوں میں فرمان اور فرحان کی لاشیں جناح اسپتال میں موجود ہیں، چچا علی اور بہنوئی حسن کی لاشیں بھی لائی گئیں، ان میں سے ایک نوجوان کی شادی دو ماہ پہلے ہوئی تھی، ایک مزدور کی پندرہ دن پہلے ملازمت لگی تھی۔

سولہ میں سے 15 مزدوروں کی لاشوں کی شناخت کر لی گئی ہے، حادثے میں جاں بحق ہونے والے ایک مزدور کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی ہے، جس کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے گا، جاں بحق ہونے والوں میں 19 سالہ حسن، 23 سالہ علی، 29 سالہ فراز، 30 سالہ فرمان، 30 سالہ ریحان، 40 سالہ راشد حسین، 37 سالہ صابر، محمد عدنان، فرحان اور ریحان شامل ہیں۔

واضح رہے کہ 6 گھنٹے تک لگی رہنے والی آگ میں جھلس کر 16 مزدور جاں بحق ہوئے ہیں، جناح اسپتال ایمرجنسی انچارج ڈاکٹر صائمہ نے اے آر وائی نیوز کو بتایا کہ جناح اسپتال 13 لاشیں لائی گئی ہیں، زخمیوں میں 2 ریسکیو رضا کار اسپتال لائے گئے۔

کورنگی : کمیکل فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی، 16مزدور جاں بحق

ایس ایس پی کورنگی نے اس واقعے سے متعلق بتایا کہ فیکٹری کا مالک علی مرتضیٰ لاہور کا رہائشی ہے، اس فیکٹری میں بیگ تیار کیے جاتے ہیں، آتش زدگی کے وقت فیکٹری کا سپروائزر جائے وقوع پر موجود تھا، اس نے بتایا کہ فیکٹری میں 25 سے زائد افراد موجود تھے، اور فیکٹری میں ایک کچن بھی ہے جہاں واقعے کے وقت چائے بنائی جا رہی تھی، ایس ایس پی شاہجہان خان نے کہا کہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

فائر بریگیڈ حکام نے بتایا کہ فیکٹری میں آگ مزید بھڑکنے کی وجہ کیمیکل ڈرم تھے، واقعے کے وقت بڑی تعداد میں کیمیکل کے ڈرم فیکٹری سے باہر نکالے گئے ہیں۔ فائر افسر نے بتایا کہ ریکسیو آپریشن اور کولنگ کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے، اور فیکٹری بھی سیل کر دی گئی ہے۔

ادھر انکشاف ہوا ہے کہ مہران ٹاؤن میں متاثرہ فیکٹری غیر قانونی نکلی ہے، کے ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ فیکٹری رہائشی پلاٹ نمبر سی 40 پر قائم ہے، رہائشی پلاٹ پر کمرشل تعمیرات نہیں کی جا سکتیں، یہاں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے سوسائٹی قائم کی گئی تھی۔

کے ڈی اے کے مطابق متاثرہ فیکٹری رہائشی پلاٹ پر قائم تھی، 600 گز پر قائم 2 منزلہ فیکٹری کا مالک علی نامی شخص ہے، اور وہ طارق روڈ پر رہائش پذیر ہے۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ واقعے کے فوراً بعد فیکٹری کا چوکیدار حاضری رجسٹر لے کر فرار ہوگیا ہے، رجسٹر میں 25 افراد کی حاضریاں لگی ہوئی تھیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں