امریکا اپنی فوجیں طویل مدت کے لیے شام میں رہنے دے، ایمینوئل مکرون macron-said-america-troops-instead-for-the-long-term-in-syria
The news is by your side.

Advertisement

امریکا اپنی فوجیں طویل مدت کے لیے شام میں رہنے دے، ایمانوئیل میکرون

پیرس : فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کو راضی کرلیا ہے کہ وہ اپنی افواج کو طویل مدت کے لیے شام میں رہنے دیں اور میزائل حملوں کی تعداد کو محدود رکھیں۔

تفصیلات کے مطابق شامی شہر دوما پر مبینہ کیمیائی حملوں کے جواب میں امریکا، فرانس، اور برطانیہ کے جانب سے شام کے متعدد شہروں میں ہفتے کے روز ٹوماہاک اسارٹ میزائیلوں سے حملہ کیا گیا تھا۔

فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے امریکی صدر ٹرمپ کو راضی کیا ہے کہ امریکی افواج کو شام سے واپس بلانے کے بجائے طویل مدت کے لیے تعینات کریں۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ روز قبل کہا تھا کہ’بہت جلد امریکا شام سے اپنی فوجیں واپس بلالے گا‘۔

یاد رہے کہ ہفتے کے روز امریکا اور اتحادیوں فرانس اور برطانیہ نے دوما پر کیمیل اٹیک کے جواب میں مشترکہ فوجی کارروائی کرتے ہوئے شامی رجیم کے متعدد کیمیائی ہتھیاروں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔

ایمانوئیل میکرون نے فرانسیسی نشریاتی ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں نے امریکی صدر پر زور دیا ہے کہ شام پر حملوں کی تعداد کم رکھیں‘۔

امریکا اور فرانس کے درمیان پہلے سے دوستانہ تعلقات ہیں اور شام پر مشترکہ حملے سے پہلے بھی دونوں کے درمیان بات چیت ہوئی تھی۔

فرانسیسی صدر کی جانب سے دیئے گئے بیان پر وائٹ ہاوس کی ترجمان سارا سینڈر کا کہنا تھا کہ ’امریکا کا مقصد ابھی تبدیل نہیں ہوا ہے، صدر ٹرمپ نے واضح طور پرکہہ دیا ہے کہ امریکی افواج جتنی جلدی ممکن ہو واپس بلائی جائے گی‘۔

وائٹ ہاوس کی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکا دولت اسلامیہ کو کچلنے اور واپس آنے سے روکنے کے لیے پوری طرح سے پرعزم ہے‘۔

خیال رہے کہ امریکی افواج کے 2000 سے زائد فوجی مشرقی شام میں کردش اور عرب جنگوؤں (سیرین جمہوری فورس) کے اتحاد کی معاونت کرنے کے لیے موجود ہیں۔

ایمانوئیل میکرون نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کے معاملے میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کا خواہش مند ہوں تاکہ ’شام کے مسئلے پر فوجی کارروائی کے علاوہ کوئی حل نکالا جاسکے، اسی سلسلے میں اگلے ماہ روس کے دورے پر جاؤں گا‘۔

کیمیل ہتھیاروں کے استعمال کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی غیر سیاسی تنظیم ’او پی سی ڈبلیو‘ کیمیائی حملوں کی تحقیقات کے سلسلے میں شام موجود ہے اور چند روز میں تفتیش کے لیے متاثرہ شہردوما کا دورہ بھی کرے گی۔

روسی حکام نے بیان جاری کیا ہے کہ ’جب شامی شہردوما میں ابھی تک کسی قسم کے کیمیائی حملے کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ حملے کس نے کیے، تو پھر امریکا اور اتحادیوں نے شام کے خلاف فوجی کارروائی کیوں کی‘۔

روسی حکام کا مؤقف ہے کہ دوما میں کوئی کیمیائی حملے نہیں ہوئے بلکہ برطانیہ نے کیمیائی حملوں کا ڈراما رچایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں شام پر حملے کے تینوں اتحادیوں نے پیش کردہ نئے مسودے میں کہا ہے کہ ’تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار‘ تیس روز کے اندر کیمیائی حملوں سے متعلق اپنی رپورٹ سلامتی کونسل میں جمع کروائے۔


شام نےدوبارہ کیمیائی حملہ کیا، توامریکا پھرمیزائل داغےگا‘ڈونلڈ ٹرمپ


واضح رہے کہ شام اور اتحادیوں کی جانب سے دوما پرمبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں امریکا نے برطانیہ اور فرانس کے اشتراک کے ساتھ شام کی کیمیائی تنصیبات پر میزائل حملے کیے۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے روس کی شام سے متعلق قرارداد مسترد کردی ہے، یہ ہنگامی اجلاس شام پر امریکا اور اس کے اتحادیوں کے حملے کے بعد روس کے مطالبے پر بلایا گیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں