The news is by your side.

Advertisement

’پاکستان محفوظ ملک ہے، یہاں کے لوگ بھی عوام دوست ہیں‘ : غیرملکی کھلاڑیوں کا پیغام

سوات: خیبرپختونخواہ کے سیاحتی مقام مالم جبّہ پہنچنے والے 48 غیر ملکی کھلاڑیوں نے پاکستان کو محفوظ ملک قرار دے دیا۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق سوات کے علاقے مالم جبّہ میں پاکستان انٹرنیشنل اسنو بورڈنگ کپ کے دلچسپ مقابلے جاری ہیں، جس میں ملکی وغیر ملکی کھلاڑیوں حصہ لے رہے ہیں جبکہ ان مقابلوں کو دیکھنے کے لیے سیاحوں کی بڑی تعداد مالم جبّہ پہنچی ہے۔

خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹوورازم اتھارٹی کی جانب سے منعقدہ اسنو بورڈنگ کپ میں ملکی و غیر ملکی کھلاڑی اپنے فن کے جوہر دکھا رہے ہیں۔ مجموعی طور پر یورپ، بیلجیئم اور افغانستان سے 48 کھلاڑی مقابلے میں حصہ لے رہے ہیں، ان میں چار خواتین بھی شامل ہیں۔

اسنو بورڈنگ کپ میں شرکت کے لیے مالم جبّہ پہنچنے والے غیرملکی کھلاڑیوں نے پاکستان کو سیاحت کے لیے محفوظ ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی سیاح آسانی کے ساتھ پاکستان آسکتے ہیں۔

علاوہ ازیں جنت نظیر وادی نے برف کی سفید چادر اڑھی تو ملک کے دیگر حصوں سے سیاحوں کی بڑی تعداد نے بھی قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لئے مالم جبہ کا رخ کررہے ہیں۔

اسنو بورڈنگ مقابلوں میں شرکت کرنے والے بیلجیئم سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کا کہنا تھا مالم جبّہ اسنو بورڈنگ میں شرکت کرنا ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’پاکستان محفوظ اور خوبصورت ملک ہے یہاں حسین مقامات کے ساتھ لوگ بھی عوام دوست ہیں اور کھلے دل سے سیاحوں کو خوش آمدید کہتے ہیں، غیر ملکی سیاح آسانی اور بے فکری سے پاکستان آسکتے ہیں۔

غیر ملکی کھلاڑیوں کا مزید کہنا تھا کہ مالم جبّہ سوات میں بین الاقوامی معیار کا سلوپ قدرتی طور پر موجود ہے جسے محکمہ کھیل اولمپک مقابلوں میں شامل کرکے یہاں مقابلے کرا سکتے ہیں۔

کمشنر ملاکنڈ ظہیر السلام نے اسنو بورڈنگ کپ میں شرکت کرنے والے ملکی و غیر ملکی کھلاڑیوں اور بڑی تعداد میں سیاحوں کی مالم جبہ آمد پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسنو بورڈنگ کپ میں ملکی و غیر ملکی کھلاڑیوں کی بڑی تعداد میں شرکت خوش آئند ہے ملاکنڈ ڈویژن میں سیاحت کے فروغ کے لئے مزید اقدامات بھی اٹھائے گے۔

پاکستان انٹرنیشنل سنو بورڈنگ کپ میں شریک کھلاڑی اور سیاحوں کی دلچسپی کے لئے فوڈ اینڈ میوزک کا بھی اہتمام کیا گیا۔۔۔

مزید تصاویر دیکھیں

Comments

یہ بھی پڑھیں