The news is by your side.

Advertisement

مقبوضہ کشمیرکی صورتحال، ملائیشین وزیراعظم میدان میں آگئے ، مودی پریشان

کولالمپور : اقوام متحدہ میں مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پر بھارت پرتنقید کے بعد ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیرمحمد نے عملی اقدام کے طور پر بھارت سے تجارتی معاملات پر نظرثانی کا اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیرمحمد نےبیان میں کہا ہے کہ بھارت سے تجارتی معاملات پر نظرثانی کی جائے گی، بھارت سے تجارت محدود کرنے کا جائزہ لے رہے ہیں، ملائیشیا کی بھارت سے تجارت دوطرفہ ہے۔

مہاتیرمحمد نے اقوام متحدہ میں تقریرمیں کہا تھا کہ بھارت نے کشمیرپرحملہ کر کے قبضہ کیا ہوا ہے۔اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود بھارت نے مقبوضہ کشمیرپرقبضہ کیا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کو پرامن طریقے سے حل ہونا چاہیے، بھارت کو پاکستان کے ساتھ کام کرنا چاہیے تاکہ یہ مسئلہ حل ہو اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ اقدام عالمی ادارے اور قانون کی حکمرانی کو دیگر طریقے سے نظرانداز کرنے کا باعث بنے گا۔

یاد رہے ملائیشین وزارت خارجہ کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے خصوصی بیان جاری کیا گیا تھا ، جس میں ملائیشیا نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے پائیدار اور پرامن حل کی حمایت کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ملائیشیا مسئلہ جموں و کشمیر کا پرامن اور پائیدار حل چاہتا ہے کیونکہ مقبوضہ وادی کا پرامن حل خطے کے استحکام اور خوشحالی کیلئے ضروری ہے۔

مزید پڑھیں : مقبوضہ کشمیر، ملائیشیا نے حمایت کا اعلان کردیا

خیال رہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے لیے 5 اگست کو آرٹیکل 370 اور 35اے کے خاتمے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد دنیا بھر میں بھارتی اقدام پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

مقبوضہ کشمیرمیں جاری کرفیوکوباہترروزہوگئے ہیں، موبائل اور انٹرنیٹ سروس بدستور بند ہے جبکہ تعلیمی ادارے، کاروبار اور ٹرانسپورٹ بھی معطل ہے، شوپیاں میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ٹرک ڈرائیور جاں بحق ہوگیا ہے۔

بھارتی فورسز نے مختلف علاقوں میں چھاپوں کے دوران متعدد کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ سیدعلی گیلانی، میرواعظ عمرفاروق سمیت حریت قیادت بدستور نظربند اور گرفتار ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں