The news is by your side.

Advertisement

تکذیب نکاح کیس: اداکارہ میرا اور عتیق الرحمان کو عدالت نے طلب کرلیا

لاہور: سیشن کورٹ نے اداکارہ میرا کی درخواست پر شوہر ہونے کے دعویدار عتیق الرحمان اور میرا کو طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق اداکارہ میرا کی جانب سے فیملی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے لاہور کی سیشن کورٹ میں درخواست دائرکی گئی تھی جس پر آج جمعہ 26 اپریل کو جسٹس عدنان طارق نے سماعت کی۔

اداکارہ نے اپنی درخواست میں کہا کہ ’’عتیق الرحمان نامی شخص کو جانتی ہوں نہ اُن سے شادی کی‘‘۔ دوسرے فریق نے فیملی کورٹ کو دھوکے میں رکھ کر فیصلہ لیا۔ یاد رہے کہ میرا نے6 مارچ کو فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ایڈیشنل سیشن جج عدنان طارق کی عدالت میں اپیل دائر کرتے ہوئے استدعا کی تھی کہ فیملی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

مزید پڑھیں: نکاح پر نکاح، اداکارہ میرا کے لیے ایک اور بڑی مشکل

لاہور کی فیملی عدالت کے جج بابر ندیم نے نے گزشتہ سال اداکارہ میرا کے تکذیب نکاح کیس کی سماعت کرتے ہوئے میرا کے تکذیب نکاح کے دعوے کو جھوٹا قرار دیا تھا، جج بابر ندیم کا کہنا تھا کہ خاتون کا دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے۔

فیملی کورٹ کے جج بابر ندیم نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ میرا اور عتیق الرحمان کے درمیان ڈیفنس میں واقع گھر تنازع کی وجہ بنا تھا، جس پر دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف فوج داری مقدمات قائم کیے تھے، جو گذشتہ دس برسوں سے عدالتوں میں زیر التواء ہیں۔

اداکارہ میرا نے موقف اختیار کیا تھا کہ وہ عتیق الرحمن کو نہیں جانتی ہیں ۔فیملی عدالت نے حقائق کے برعکس فیصلہ سنایا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عتیق الرحمان سے نکاح نہیں ہوا نکاح نامہ اور دکھائی جانے والی تصاویر جعلی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نکاح نامہ کیس:اداکارہ میرا ایک بار پھرعدالت پہنچ گئیں

یہ بھی یاد رہے کہ گزشتہ برس مارچ میں اداکارہ میرا اور عتیق الرحمان کا نکاح پڑھانے والے نکاح خواں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ادکارہ میرا کا نکاح حقائق پر مبنی ہے۔ میرا اور عتیق الرحمٰن کا نکاح گواہان کی موجودگی میں پڑھایا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ میرا کا نکاح اسلامی شریعت کے مطابق پڑھایا، عدالت میں جمع کروایا گیا نکاح نامہ بھی اصلی ہے۔

عتیق الرحمٰن نامی شخص کی جانب سے میرا کے خاوند ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا جس پر گزشتہ کئی سالوں سے دونوں کے درمیان مختلف عدالتوں میں مقدمات بھی زیر سماعت رہے ہیں اور اب ایک بار یہ کیس سیشن کورٹ میں آگیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں