مشعال خان سے نظریاتی اختلاف تھا: مرکزی ملزم کا اعتراف جرم -
The news is by your side.

Advertisement

مشعال خان سے نظریاتی اختلاف تھا: مرکزی ملزم کا اعتراف جرم

پشاور: صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع مردان میں عبد الولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشعال خان کے قتل کے مرکزی ملزم عمران علی نے عدالت میں اعترافی بیان ریکارڈ کروا دیا۔ ملزم کو 2 روز قبل گرفتار کیا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق طالب علم مشعال خان کو قتل کرنے والے مرکزی ملزم عمران علی نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔

مشعال قتل کیس میں گرفتار مرکزی ملزم عمران علی کو سینئر سول جج کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس نے اپنا اعترافی بیان ریکارڈ کروایا۔ بیان میں اس نے کہا کہ مشعال میرا کلاس فیلو تھا۔ مشعال کے نظریات سے اختلاف تھا۔

یاد رہے کہ عمران علی کو دو روز قبل گرفتار کیا گیا تھا۔ عمران نے ابتدائی تفتیش کے دوران ہی جرم کا اعتراف کرلیا تھا۔

مشعال کے قتل میں مطلوب 47 افراد قانون کی حراست میں ہیں جبکہ 2 مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

یاد رہے کہ 13 اپریل کو صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر مردان کی عبدالولی یونیورسٹی میں ایک مشتعل ہجوم نے طالب علم مشعال خان کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

مشعال پر توہین رسالت کا الزام لگایا گیا تاہم چند روز بعد انسپکٹر جنرل خیبر پختونخوا صلاح الدین محسود نے بتایا کہ مشعال کے خلاف توہین رسالت سے متعلق کوئی شواہد نہیں ملے۔

مزید پڑھیں: توہین مذہب کا الزام عائد کرنے والوں کو تعلیم کی ضرورت ہے، امام کعبہ

بعد ازاں کیس کے مرکزی ملزم وجاہت نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے واقعے کی تمام تر ذمہ داری یونیورسٹی پر ڈال دی تھی۔ ملزم کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے کے لیے جامعہ کی انتظامیہ نے کہا تھا۔

ملزم کے مطابق انتظامیہ نے اسے کہا کہ مشعال اور ساتھیوں نے توہین رسالت کی ہے جس پر ملزم نے یونیورسٹی انتظامیہ کے کہنے پر طالب علموں کے سامنے مشعال اور ساتھیوں کے خلاف تقریر کی، تقریر میں کہا کہ ہم نے مشعال، عبداللہ اور زبیر کو توہین کرتے سنا ہے۔

مشعال کے قتل کے خلاف قومی اسمبلی میں بھی مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔

دوسری جانب چند روز قبل سپریم کورٹ میں مشعال خان کے قتل کی ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کو جوڈیشل کمیشن بنانے سے روک دیا۔ آئی جی خیبر پختونخواہ نے مکمل رپورٹ مرتب کرنے کے لیے مزید مہلت مانگ لی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں