قیامت کی نشانی: مرد بچے پیدا کریں گے -
The news is by your side.

Advertisement

قیامت کی نشانی: مرد بچے پیدا کریں گے

جدید سائنس نے جہاں ہر شعبے میں بے تحاشہ ترقی کی اور بے شمار تبدیلیاں رونما ہوئیں وہیں اب ہزاروں سال سے  قدرت کے وضع کردہ طریقۂ حمل میں مداخلت کرتے ہوئے بچے جنم دینے کے عمل کا دائرہ کار بھی مردوں تک پھیلا نے کی کوشش شروع کردی ہے۔

برطانوی اخبار ’دی انڈپنڈنٹ‘ کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ کے مطابق دنیا کے چوٹی کے طبی ماہرین کے مطابق رحم کی منتقلی کے ذریعے مرد بھی نئی زندگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

امریکن سوسائٹی فار ری پروڈکٹو میڈیسن کے صدر ڈاکٹر رچرڈ پالسن کا کہنا ہے کہ سائنس کی ترقی کے ساتھ یہ عمل بھی ممکن اور نہایت آسان بن چکا ہے۔

ان کے مطابق وہ افراد جو جنس کی تبدیلی کے عمل سے گزرے ہوں وہ بھی اس طریقہ کار کے ذریعے نئی زندگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ڈاکٹر رچرڈ کے مطابق گو کے مرد و خواتین کے اعضا کی ساخت مختلف ہوتی ہے تاہم ان کے جسم کے اندر رحم اور اس کے اندر ایک نئی زندگی کے نمو پانے کے لیے جگہ موجود ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس طریقہ کار کو واقعی عمل میں لایا جائے تو پھر ان ہارمونز کی منتقلی بھی کرنی ہوگی جو خواتین کے جسم میں حمل کے دوران فعال ہوتے ہیں۔

علاوہ ازیں مردوں اور خواجہ سراؤں کے یہاں جنم دینے کا عمل سیزیرین آپریشن کے ذریعے ممکن ہوسکے گا۔

دوسری جانب کچھ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ حمل اور بچے کی پیدائش خواتین کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے اور انہیں بے شمار مسائل سے بچاتا ہے، لہٰذا فی الحال اس طریقہ کار کو قابل عمل بنانے میں بہت سی پیچیدگیاں درپیش ہیں۔

خیال رہے کہ آج سے 1400 سال قبل کے اسلامی ماخذوں میں قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی’مردوں کا بچے پیدا کرنے کا تذکرہ بھی ملتا ہے ‘ جس میں کہا گیا ہے کہ آخری زمانوں میں مرد بھی بچے پیدا کریں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں