The news is by your side.

Advertisement

خواتین پر تشدد کے خلاف آگاہی: مینار پاکستان نارنجی رنگ سے روشن

لاہور: خواتین پر تشدد اور صنفی امتیاز کے خلاف آگاہی پیدا کرنے کے لیے مینار پاکستان نارنجی رنگ سے نہلا دیا گیا۔ یہ رنگ خواتین کے حقوق کی طرف توجہ دلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے دنیا بھر میں خواتین پر تشدد کے خاتمے کے لیے آگاہی دینے کی سولہ روزہ مہم ’اورنج دا ورلڈ‘ جاری ہے۔ یہ رنگ خواتین کے حقوق اور ان کے تحفظ کو ظاہر کرنے کے لیے علامتی طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

اس مہم کا آغاز گزشتہ ماہ 25 نومبر کو (خواتین پر تشدد کے خاتمے کا عالمی دن) سے ہوگیا۔ اس سلسلے میں دنیا بھر میں مختلف افراد اور اداروں نے یہ رنگ پہن کر اور مختلف عمارتوں کو اس رنگ میں رنگ کر خواتین پر تشدد کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔

لاہور میں بھی اس سلسلے میں ایک آگاہی ریلی کا انعقاد کیا گیا جس کے اختتام پر مینار پاکستان کو نارنجی روشنیوں سے روشن کردیا گیا۔

minar-4

minar-3

minar-2

اس موقع پر پنجاب کی وزیر برائے بہبود خواتین حمیدہ وحید الدین نے بھی شرکت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت خواتین پر تشدد کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صوبائی محکمہ برائے بہبود خواتین نے ’ہر ٹاک 2016‘ کے نام سے ایک مہم کا آغاز بھی کیا ہے جس کے تحت صوبے بھر میں قومی ترقی اور خوشحالی کے لیے خواتین کے کردار کو اجاگر کرنے کے لیے آگاہی فراہم کی جارہی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں صنفی تفریق خواتین کے طبی مسائل کی بڑی وجہ 

صوبائی وزیر کے مطابق اس مہم میں اقوام متحدہ کا اداہ برائے خواتین یو این وومین بھی ان کے ہم قدم ہے۔

واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی رواں برس خواتین کو گھریلو تشدد سے بچانے کے لیے بل بھی منظور کر چکی ہے جس میں خواتین پر تشدد کرنے والے افراد کے لیے سخت سزائیں رکھی گئی ہیں۔

رواں سال اکتوبر میں قومی اسمبلی میں بھی غیرت کے نام پر خواتین کے قتل اور انسداد عصمت دری کے خلاف بل منظور کرلیا گیا ہے جس کے تحت ان جرائم میں ملوث افراد کے لیے سخت سزائیں طے کرلی گئی ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ہر 3 میں سے ایک عورت کو اپنی زندگی میں کسی نہ کسی قسم کے جسمانی، جنسی یا ذہنی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو صرف صنف کی بنیاد پر اس سے روا رکھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: ہمت ہے تو آگے بڑھو، میں ناقابل شکست ہوں

اقوام متحدہ کے مطابق خواتین پر تشدد ان میں جسمانی، دماغی اور نفسیاتی بیماریوں کا سبب بنتا ہے جبکہ ان میں ایڈز کا شکار ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ خطرے کی زد میں وہ خواتین ہیں جو تنازعوں اور جنگ زدہ ممالک میں رہائش پذیر ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں