The news is by your side.

ترامیم پر ابہام برقرار، وزارت قانون کا نیب کے قانونی سوالات پر رائے دینے سے انکار

نیب قانون میں پے درپے ترامیم ہوچکیں مگر اہم سوالات پر ابہام برقرار ہے اور وزارت قانون نے نیب کے قانونی سوالات پر رائے دینے سے انکار کر دیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق شہباز دور حکومت میں نیب قوانین میں ترامیم کے بعد کئی قانونی معاملات پر ابہام برقرار ہے اور نیب نے اس حوالے سے وزارت قانون کے سامنے کئی قانونی سوالات اٹھا دیے ہیں تاہم وزارت نے ان سوالات پر اپنی رائے دینے سے انکار کردیا ہے۔

جس سے یہ واضح نہیں ہو پا رہا ہے کہ نواز شریف، مریم نواز سمیت فیصلہ ہوچکے اور اپیلوں کی سطح پر موجود اہم کیسز متاثر ہوں گے یا نہیں

نیب نے وزارت قانون سے اس حوالے سے کچھ سوالات کیے ہیں، نیب نے کہا ہے کہ عدالتیں ہم سے کیسز پر واضح موقف دینے کا کہہ رہی ہیں اس لیے بتایا جائے کہ نیب قانون 2022 سے نافذ ہو، 1999 سے یا 1985 سے؟ رہنمائی کی جائے کیا زیر التوا اپیلوں پر بھی نیا قانون لاگو ہوتا ہے؟ کیا جن کیسز کا فیصلہ ہوچکا ان پر بھی نیا قانون لاگو ہو گا؟

ان سوالات کے جواب میں وزارت قانون کا کہنا ہے کہ کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے، قانون واضح ہے، پراسیکیوٹر جنرل عدالتوں سے متعلق ہدایات دینے کی بہتر پوزیشن میں ہیں۔

نیب نے یہ خط گزشتہ ماہ وزارت قانون کو رہنمائی کے لیے لکھا تھا اور وزارت نے جواب میں کوئی بھی واضح رائے دینے سے انکار کردیا ہے۔

واضح رہے کہ پارلیمنٹ میں نیب قوانین میں کی جانے والی ترمیم کے بعد نیب کیسز میں ملوث کے بڑے ملزمان کو بڑا ریلیف مل گیا ہے۔

قانون میں تبدیلی : شہباز، حمزہ، پرویز اور گیلانی کے نیب مقدمات ختم

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف، حمزہ شہباز، راجا پرویز اشرف اور سید یوسف رضا گیلانی کے خلاف عائد الزامات سمیت 50 کرپشن ریفرنسز احتساب عدالتوں نے واپس کر دیے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں