site
stats
اہم ترین

ایکسپو سینٹر میں راشن کی تقسیم بد نظمی کا شکار،کئی خواتین زخمی

کراچی: ایکسپو سینٹر میں رفاعی ادارے کی جانب سے راشن کی تقسیم کے موقع پر شدید بد نظمی، رش کے باعث بھگڈر مچ گئی، کئی خواتین زخمی ہو گئیں۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کی ایک رفاعی اور فلاحی ادارے کی جانب سے رمضان سے پہلے مستحقین میں مفت راشن کی تقسیم کرنے کے لیے منعقد کی گئی تقریب بے نظمی کا شکار ہوگئی۔

ایکسپو سینٹر ہال نمبر 2 میں منعقد کی گئی تقریب کے لیے صبح 6 بجے سے ہی خواتین جمع ہونا شروع ہوگئی تھیں،ہال کے بھر جانے کے بعد خواتین کو ایکسپو سینٹر سے باہر کر کے مرکزی دروازہ بند کر دیا۔

مرکزی دروازے سے باہر آنے کے بعد خواتین دروازے پر چڑھ گئیں،ایکسپو سینٹر میں داخل ہو گئیں،اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں پہلے سے ہی ٹوکن دے دیا گیا تھا، تاہم اب واپس لوٹایا جا رہا ہے،ہم در بدر بھٹک رہے ہیں، لیکن انتظامیہ کا کوئی اہلکار ہماری رہنمائی کو موجود نہیں ہے۔


Karachi Stampede during ration distribution… by arynews

ذرائع کے مطابق جیسے جیسے گرمی کی شدت بڑھتی گئی بزرگ خواتین کا کھڑا ناممکن ہو تا رہا،موس سے بے حال ہوکر کئی خواتین بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑیں۔

بے ہوش والی خواتین کو ایمبولینس کے ذریعے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا،جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے جب کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ایکسپو سینٹر کے باہر پولیس بھی موجود ہے۔

یاد رہے ماہ رمضان کے بابرکت موقع پر مخیر حضرات اور فلاحی اداروں کی جانب سے راشن کی تقسیم کے عمل میں تیزی آجاتی ہیں،جس میں بد نضمگی کی شکایات عام ہیں،دو سال قبل جوڑیا بازار میں آٹے کے تاجر کی جانب سے راشن کی تقسیم کے موقع ہجوم میں کچلے جانے سے 3 خواتین ہلاک ہو گئی تھیں۔

واضح رہے رمضان کی آتے ہی شہر کراچی کی جانب مستحقین کے ساتھ ساتھ پیشہ ور گداگروں کی کثیر تعداد بھی کراچی کا رخ کرتی ہے، جس کے باعث امدادی پروگرام میں ضرورت سے زیادہ لوگ جمع ہو جاتے ہیں، اور صورتِ حال انتظامیہ کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے اور کسی ناخوشگوار واقعے میں جانی نقصان کا بھی احتمال رہتا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مخیر حضرات اور فلاضی تنظیمیں اپنے امدادی پروگرام اور مستحقین کی تعداد سے پیشگی آگاہ کریں تو سیکیورٹی کے انتظامات بہتر ہو سکتے ہیں اور کسی ناخوشگوار حادثے سے بھی بچا جا سکے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top