The news is by your side.

Advertisement

خیبرپختوانخواہ میں ’ایم پی اے‘ اپنے گھر کے لیے لوگوں کو بے گھرکررہا ہے

چترال: گرم چشمہ کے علاقے ایژگاؤں میں زیرتعمیرسڑک کے لئے نہایت قیمتی اخروٹ کے درختوں کوغیرقانونی طورپر کاٹاجارہا ہے۔

ایک طرف صوبائی حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ صوبے میں ایک ارب پودے لگارہے ہیں تو دوسری طرف محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس کے ٹھیکدارایژگاؤں میں زیر تعمیر سڑک کے لئے اخروٹ کے علاوہ دیگرمیوہ داردرختوں کو کاٹ رہے ہیں۔

علاقے کے متاثرین نے درختوں کی اس غیر قانونی کٹائی کے خلاف ایژگاؤں میں ایک پرامن مظاہرہ اور احتجاج بھی کیا، جس میں خواتین نے ہاتھوں میں بینرز پکڑے ہوئے تھے جس پرانصاف کے دعویدار حکومت سے انصاف کی بھیک مانگی گئی تھی۔

اس علاقے سے منتحب تحصیل کونسل کے رکن کا کہنا ہے کہ صوبائی اسمبلی کے رکن سلیم خان کا تعلق اسی علاقے میں
کندو جال گاؤں سے ہے اور وہ اپنے ذاتی گھر کیلئے سڑک بنانا چاہتے ہیں جس کے لئے انہوں نے ضلعی انتظامیہ کے ذریعے سیکشن فورلگایا ہے جس کے تحت حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جس کا چاہے زمین اورگھر لےکر اسے مسمار کرکے سڑک میں استعمال کرسکتا ہے۔

انہوں نے اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے ایک بااثر شحص کے ذاتی سڑک کیلئے سیکشن فور نافذ کرکے زمین کیوں زبردستی لے رہے ہیں۔

خواتین اور مردوں نے اس کے خلاف احتجاج اورجلسہ کرتے ہوئے کہا کہ ایم پی اے سلیم خان کے گھر تک پہلے سے سڑک موجود ہے جس کے لئے ان لوگوں نے مفت زمین فراہم کی تھی مگر وہ ہم سے انتقام لے رہے ہیں کیونکہ ہم نے ان کو ووٹ نہیں دیا تھا اور وہ ایژ گاؤں کے بیچ میں سے سڑک گزارنا چاہتا ہے جس کی وجہ سے کئی بیواؤں، یتیموں کے سروں سے چھت چھینا جاتا ہے اور اخروٹ کے نہایت قیمتی پھلدار درختوں کو بھی غیر قانونی طور پر کاٹا جارہا ہے۔

انہوں نے اس بات پر نہایت افسوس کا اظہار کیا کہ ایک طرف صوبائی حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ صوبے میں ایک ارب پودے لگارہے ہیں جبکہ دوسری طرف صوبائی حکومت کے ٹھیکدار اخروٹ اور دیگر پھل دار درختوں کو بغیر اجازت اور معاوضے کے کاٹ رہے ہیں۔

اس سلسلے میں جب ڈویژنل فارسٹ آفسر محمد سلیم مروت سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اخروٹ کی درخت اگر سرکاری اراضی پر کھڑی ہو تو پھر اس کیلئے بھی وہی قانون ہے جو دیار کی درخت کیلئے ہے ۔ اور اگر اخروٹ کسی کی ذاتی ملکیت میں کھڑی ہو وہ بھی اسے اپنی مرضی سے نہیں کاٹ سکتا ۔

انہوں نے بتایا کہ 2004 کے پالیسی کے تحت اگر کوئی شخص اپنے ذاتی ملکیت میں موجود اخروٹ کا درخت کاٹنا چاہتا ہے تو وہ باقاعدہ تحریری طور پر محکمہ جنگلات کے افسر کو درخواست دے گا جس پر وہ محکمہ ذراعت کے ذمہ دار افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرکے موقع پربھئجے گا، اگر خروٹ کا درخت خشک ہے یا میوہ(فصل) دینے کے قابل نہیں ہے تو ذراعت کا افسر اپنا رپورٹ محکمہ جنگلات کو پیش کرے گا اور یہ مخمہ پھر اس شحص کو اس درخت کی کاٹنے کی تحریری اجازت دے گی۔

ہمارے نمائندے نے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ایکسئین اور ڈپٹی کمشنر سے بھی رابطہ کرکے اس سلسلے میں ان کی موقف جاننے کی کوشش کی مگر انہوں نے بات کرنے سے گریز کی۔

ایژ گاؤں کے متاثرین نے وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سلسلے میں تحقیقات کرے کہ اتنی خطیر رقم صرف ایک ایم پی اے کی گھر یا گاؤں کی سڑک کیلئے کیوں خرچ ہورہی ہے جبکہ گرم چشمہ کا مین روڈ پچھلے سال سے تباہ پڑا ہے اور ڈپٹی کمشنر نے سیکشن فور کیوں لگایا جبکہ اور بھی عوام کے مفاد اور دلچسپی کے کئی کام ہیں جہاں یہ دفعہ نہیں لگایا گیا اور لوگ یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ اخروٹ کے کئی قیمتی درختوں کو غیر قانونی طور پر بلا کسی اجازت کے کیوں جارہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں