The news is by your side.

Advertisement

حکومت کا رہنا یا جانا ایم کیو ایم کے ہاتھ میں ہے، امین الحق

وفاقی وزیر امین الحق نے کہا ہے کہ ہمیں فیصلے کی جلدی نہیں حکومت کا رہنما یا جانا ایم کیو ایم کے ہاتھ میں ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی امین الحق نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں میزبان کاشف عباسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی دروازےبندنہیں کیےجاتے ہمیں فیصلہ کرنے کی جلدی نہیں ہے باہمی مشاورت کے بعد کل یا پرسوں حتمی فیصلہ کرینگے حکومت کا رہنا یا جانا ایم کیو ایم کے ہاتھ میں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ق لیگ ملاقات سے پہلے ہی عندیہ دے گئے تھے کہ کیا ہوگا، ہماری بھی حکومتی وفد سے ملاقات ہوگی جس کے بعد کل یاپرسوں فیصلہ کرنےکی پوزیشن میں ہونگے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایم کیو ایم میں ایسا نہیں ہوگا کہ 4 ایک طرف اور3 ایک طرف ہوں، ایم کیو ایم کے تمام رہنما پتنگ کے نشان کیساتھ کھڑے ہیں اور خالدمقبول صدیقی کی قیادت میں متحد ہیں۔

امین الحق نے مزید کہا کہ اپوزیشن میں بہت جماعتیں ہیں ڈر لگتا ہے کہ معاملات کیسے حل ہونگے۔ ایم کیوایم پاکستان نے تمام کارکنان اور ووٹرز سے مشاورت کی ہے اور مشاورت کا یہ عمل اب تک جاری ہے۔

میزبان کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت سے گورنر شپ کی ڈیمانڈ نہیں کی اور نہ ہی اس پوزیشن میں ہیں، خالدمقبول نے کہا تھا ہم ایک وزارت کا بوجھ اٹھالیں تو کافی ہے، ساڑھے4 ماہ پہلے جب مونس کو وزیر بنایا جارہا تھا تو ایک وزارت کی ڈیمانڈ ہی تھی۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نےہمارے مسائل بھی سنے اور حل کرنے کی منظوری بھی دی، ہمارا موقف ہے کہ جو لوگ منتخب ہوتے ہیں ان کا حق ہے کہ 5 سال پورے کریں اور پارلیمنٹ کو 5 سال پورے کرنے کا وقت دینا چاہیے۔

امین الحق نے کہا کہ 22اگست2016کےبعدایم کیوایم ایک الگ جماعت ہے، مہنگائی صورتحال اچھی نہیں لیکن پڑوسی ممالک میں اس سے بھی خوفناک صورتحال ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں