The news is by your side.

Advertisement

پرویز مشرف اور ایم کیو ایم علیحدہ جماعتیں‌ ہیں، اتحاد ممکن نہیں، متحدہ پاکستان

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان نے کہا ہے کہ خواجہ اظہار الحسن کی دبئی میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف سے ملاقات ہوئی ہے تاہم میڈیا میں ہونے والی قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں اور متحدہ کا کسی بھی جماعت سے کوئی اتحاد زیر غور نہیں ہے۔

متحدہ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ رابطہ کمیٹی کے رکن اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن اور پرویز مشرف کی دبئی میں ہونے والی ملاقات ہوئی تھی۔

ترجمان نے کہا کہ خواجہ اظہار الحسن کی اپنے مشترکہ دوستوں کے ہمراہ پرویز مشرف سے ملاقات ہوئی جس میں ملک کی سیاسی صورتحال اور کراچی کی ترقی کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس ملاقات میں کراچی اور مقامی نمائندوں کے اختیارات کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا تاہم اس ملاقات کو غلط رنگ دے کر میڈیا پر جو خبریں نشر کی جارہیں وہ بے بنیاد ہیں اور اس کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔

ایم کیو ایم کے ترجمان نے مزید کہا کہ ملاقات کے حوالے سے میڈیا پر شائع کیا جانے والا احمد رضا قصوری کا ویڈیو بیان اُن کی اپنی خواہش ہوسکتا ہے کیونکہ متحدہ کا کسی بھی جماعت سے کوئی اتحاد زیر غور نہیں ہے کیونکہ پرویز مشرف کی اپنی سیاسی جماعت ہے اور ایم کیو ایم ایک علیحدہ پارٹی ہے۔

متحدہ پاکستان کے ترجمان نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم میں مشاورت کا عمل مکمل جمہوری ہے اور رابطہ کمیٹی ہی تمام فیصلوں کا اختیار رکھتی ہے۔

دوسری جانب آل پاکستان مسلم لیگ کے سنیئر رہنماء احمد رضا قصوری کا ایک ویڈیو پیغام سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ’’پلس ون‘‘ فارمولا متعارف کروایا ہے۔

اے پی ایم ایل کے رہنماء نے پلس ون فارمولے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم ایک حقیقت ہے جسے ختم کرنا ناممکن ہے۔ کراچی اور پاکستان کی بہتری کے لیے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو متحدہ کی قیادت سنبھال لینی چاہیے۔

اس فارمولے کو مسترد کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان نے کے رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ویڈیو شیئر کی جس کے ساتھ انہوں نے واضح طور پر اس فارمولے کو مسترد کردیا ہے۔

یاد رہے 22 اگست کو اشتعال انگیز تقریر اور میڈیا ہاؤسز پر حملے کے بعد پریس کانفرنس کے لیے آنے والے ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنونیئر اور رکن صوبائی اسمبلی و اپوزیشن لیڈر کو قانون نافذ کرنے والے پریس کلب سے حراست میں لیا تھا تاہم اگلے روز دونوں رہنماؤں سمیت متحدہ کی پوری قیادت نے بانی تحریک اور لندن رابطہ کمیٹی سے اظہارِ لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں متحدہ پاکستان نے پارٹی جھنڈے سے بانی تحریک کا نام ہٹا دیا تھا اور اُن کے خلاف قومی اسمبلی میں پیش کی جانے والی قرارداد کی حمایت کی تھی جس میں ملک کے خلاف تقریر کرنے پر آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

متحدہ پاکستان کی علیحدگی کے بعد مختلف سیاسی رہنماؤں اور تجزیہ نگاروں نے مؤقف پیش کیا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ پاک سرزمین پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان اور اے پی ایم ایل کا اتحاد ہوجائے گا جس کی قیادت سابق صدر پرویز مشرف کریں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں