The news is by your side.

Advertisement

افغان طالبان کے سپریم کمانڈر ملا ہبت اللہ منظر عام پر آگئے

امارات اسلامیہ کے سربراہ اور افغان طالبان کے سپریم کمانڈر ملا ہبت اللہ اخوندزادہ پہلی بار منظر عام پر آگئے۔

افغان میڈیا رپورٹ کے مطابق ملا ہبت اللہ نے قندھار میں اتوار کے روز ہونے والی تقریب میں پہلی بار منظر عام پر آکر ایک اجتماع میں شرکت کی اور اپنے حامیوں سے خطاب بھی کیا۔

افغان میڈیا کے مطابق ہبت اللہ اخوندزادہ کو 2016 میں اسلامی تحریک کا روحانی سربراہ مقرر کیا گیا تھا، افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ منظر عام پر انہیں آئے تھے، جس کی وجہ سے مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں۔

ایک وقت میں تو ملا ہبت اللہ کے انتقال کی خبریں بھی زیر گردش تھیں، جن کو افغان طالبان کے ترجمان نے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اچھے وقت میں وہ خود منظر عام پر آجائیں گے۔

طالبان حکام کے مطابق سنیچر کو انہوں نے دارالعلوم حکیمہ کے مدرسے کا دورہ کیا تاکہ ‘اپنے بہادر سپاہیوں اور شاگردوں سے بات کی جا سکے۔’

مزید پڑھیں: ملا عمر کے صاحبزادے ملا یعقوب پہلی بار منظرعام پر آگئے

امارات اسلامیہ کے ترجمان نے اتوار کے روز سپریم لیڈر کے منظر عام پر آنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی کے سخت خدشات کے پیش نظر اُن کی کوئی تصویر یا ویڈیو بنانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

امارات اسلامیہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے اُن کی آج دس منٹ کی ہونے والی تقریر کی آڈیو ریکارڈنگ شیئر کی گئی، جس میں انہوں نے کسی سیاسی موضوع پر گفتگو نہیں کی البتہ وہ مذہبی معاملات پر گفتگو کرتے نظر آئے۔

انہوں نے طالبان قیادت کی کامیابی کے لیے برکت کی دعا بھی کی اور امریکا، نیٹو کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے طالبان، زخمیوں کے لیے دعا کی۔

یاد رہے کہ ملا اختر منصور کی 2016 میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد ہبت اللہ کو طالبان کا رہنما مقرر کیا گیا تھا۔ ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کو افغان طالبان نے امیر المومنین کا لقب بھی دیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں