site
stats
عالمی خبریں

بھارت میں ہندوانتہاپسندوں کاتشدد‘ مسلمان نوجوان ہلاک

نئی دہلی: بھارت میں ہندوانتہاپسندوں نے مسلمان نوجوان کو تشدد کرکے موت کے گھاٹ اتاردیا۔

تفصیلات کےمطابق بھارتی ریاست جھاڑکنڈ کےضلع گملا کے رہائشی 20 سالہ محمد شالک کو اس کےدرجنوں اہل علاقہ نےاُس وقت تشدد کا نشانہ بنایا جب وہ اپنی دوست کو اس کےگھر چھوڑنے جارہے تھے۔

پولیس کےمطابق مشتعل ہجوم نے نوجوان کو اس کی دوست کے سامنے ہی ایک پول سے باندھا اور ڈنڈوں اور بیلٹ سے مارنا شروع کردیا، کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والےاس تشدد کے بعد نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئےجان کی بازی ہارگیا۔

گملاپولیس چیف چندن کمار جھا کا کہناہےکہ پولیس اس بات کی تفتیش میں مصروف ہے کہ کیا ہجوم کو لڑکی کے اہل خانہ نے لڑکے کےخلاف تشدد پر اکسایا۔

چندن کا کمار کا کہنا تھا کہ تشدد کرنے والے تین افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔انہوں نےکہاکہ نوجوان جوڑا ایک سال سےساتھ تھا اور ماضی میں بھی انہیں متعدد مرتبہ دھمکیاں دی گئی تھیں۔


بھارت میں افریقی شہریوں پر بدترین تشدد


یاد رہےکہ گزشتہ ماہ بھارتی شہرگریٹر نوائڈا میں منشیات کے استعمال کے باعث ایک نوجوان کی موت کے بعد مقامی باشندوں کا ایک مشتعل ہجوم افریقی شہریوں پر ٹوٹ پڑاتھا۔

سینکڑوں مشتعل افرادنے افریقیوں پر لکڑیوں اور لوہے کی کرسیوں سے حملے کیے جس کےنتیجے میں دس سے زائد افریقی با شندے زخمی ہوئےتھے،جن میں پانچ نائجیرین شہری تھے۔


بھارت: لڑکیوں کو چھیڑنے سے منع کرنے پر 4 مسلمان شہید


واضح رہےکہ گزشتہ سال ستمبرمیں بھارت کے شہر بجنور میں مسلمان لڑکیوں کو چھیڑنے پر احتجاج کرنے والے مسلمانوں پر فائرنگ کرکے چار مسلمان نوجوانوں کو شہید اور 12 کو زخمی کردیا گیاتھا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top