The news is by your side.

Advertisement

الیکشن کمیشن آفس کے دروازے بند، کاغذات نامزدگی کا وقت ختم

کراچی: این اے 249 کے ضمنی انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی وصول اور جمع کرانے کا مرحلہ مکمل ہو گیا، مجموعی طور پر 55 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے انتخابی حلقے این اے 249 میں ضمنی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا وقت ختم ہونے پر الیکشن کمیشن کے آفس کے دروازے بند کر دیے گئے۔

ایم کیو ایم کے خواجہ ریحان منصور، سلمان مجاہد بلوچ، سید شاکر علی اور نعمان خان سمیت 7 امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے، پیپلز پارٹی کی جانب سے 3 امیدواروں وحید شاہ، قادر مندوخیل اور مسعود مندوخیل نے کاغذات جمع کرائے۔

تحریک انصاف کے حنید لاکھانی، اشرف جبار، رکن سندھ اسمبلی ملک شہزاد اعوان، لیلیٰ پروین، سبحان علی، ملک عارف اور عرفان نیاز سمیت 13 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے، جی ڈی اے کے سردار عبدالرحیم، ن لیگ کے مفتاح اسماعیل سمیت 3 امیدواروں، ٹی ایل پی کے 4، اے این پی 1، ایم ڈبلیو ایم 1 اور شبیر احمد پٹنی، زنیرہ رحمان سمیت 11 آزاد امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔

پاک سرزمین پارٹی کے 3 اور مسلم لیگ فنکشنل کے 1 امیدوار نے کاغذات جمع کرائے، مسلم لیگ جونیجو، سنی تحریک اور پاکستان فلاح پارٹی کے ایک ایک فارم جمع ہوئے، پاکستان راہ حق پارٹی، عام لوگ اتحاد، پاک مسلم الائنس اور پاسبان نے بھی ایک ایک فارم جمع کرایا۔

18 مارچ کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے امیدواروں کے نام آویزاں کیے جائیں گے، 25 مارچ تک کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال ہوگی، ریٹرننگ آفیسر کے فیصلوں کے خلاف اپیل جمع کرانے کی آخری تاریخ 29 مارچ ہے، اپیلٹ ٹریبونل میں اپیل کے فیصلوں کی آخری تاریخ 5 اپریل مقرر کی گئی ہے۔

کاغذات نامزدگی 7 اپریل تک واپس لیے جا سکتے ہیں، امیدواروں کو انتخابی نشان 8 اپریل کو الاٹ کیے جائیں گے، جب کہ این اے 249 کے ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ 29 اپریل کو ہوگی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ضمنی الیکشن کے لیے 290 پولنگ اسٹیشن قائم کیے جائیں گے، پولنگ اسٹیشنز میں پولنگ بوتھ کی تعداد 796 ہوگی، انتخابی عمل کے لیے 2100 کے قریب انتخابی عملہ درکار ہوگا، اور 3 لاکھ 39 ہزار 405 ووٹر حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

ادھر آج ضلع غربی کے الیکشن دفتر میں کاغذات نامزدگی کے دوران آج اُس وقت ماحول کشیدہ ہوا جب پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے کارکنان پھر آمنے سامنے آئے، کارکنان نے ایک دوسرے کے خلاف نعرے لگائے اور دھکم پیل کی۔ پیپلز پارٹی کے کارکنان نے ایم کیو ایم کے خلاف بھی نعرے لگائے، تاہم امیدواروں نے کارکنان میں بیچ بچاؤ کرایا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں