The news is by your side.

Advertisement

نیب قوانین میں تبدیلی کی سفارش، چیئرمین کی مدت ملازمت میں توسیع کی تجویز

اسلام آباد: حکومت نے نیب قوانین میں مجوزہ ترامیم تیار کرلیں جس میں چیئرمین نیب کو مدت ملازمت میں توسیع کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

اے آر وائی نیوز نے قومی احتساب بیورو کے قوانین میں ترمیم کا مجوزہ مسودہ حاصل کرلیا جس میں حکومت نے چیئرمین نیب، ڈپٹی چیئرمین، پراسیکیوٹر جنرل کی مدت ملازمت میں توسیع کی تجویز دی ہے۔

حکومت نے تجویز پیش کی ہے کہ نیب قوانین کے تحت چیئرمین کی ملازمت4 سال اورنا قابل توسیع ہے جبکہ ڈپٹی چیئرمین، پراسیکیوٹر جنرل کی مدت ملازمت 3 سال اورنا قابل توسیع ہے۔

مزید پڑھیں: ایف اے ٹی ایف بل کی منظوری پر اپوزیشن کیا سودے بازی کررہی ہے؟ انکشاف

نمائندہ اے آر وائی نیوز حسن ایوب کے مطابق حکومت نے نئےنیب قانون کو قومی احتساب بیورودوسرا ترمیمی ایکٹ2020 کا نام دیا ہے، مجوزہ ترامیم کے تحت قوانین کا اطلاق سرکاری ملازمین پر بھی ہوگا جبکہ اس کا اطلاق وفاق، صوبائی ٹیکس معاملات، لیویز، محصولات پر نہیں ہوگا۔

قانون میں کی جانے والی مجوزہ ترمیم میں سفارش کی گئی ہے کہ ٹیکس، لیویز، محصولات کی انکوائریاں متعلقہ اداروں کوبھجوائی جائیں گی، ٹرائل احتساب عدالتوں سے فوجداری عدالتوں کو منتقل کیا جائے گا، عوامی عہدہ نہ رکھنے والے شخص پر قانون کا اطلاق نہیں ہوگا جبکہ عوامی عہدیداران کے خلاف ترقیاتی اور تعمیری منصوبےمیں قواعد کی بےقاعدگیوں پر بھی قانون کا اطلاق نہیں ہوگا۔

مسودے میں لکھی گئی مجوزہ ترمیم میں لکھا گیا ہے کہ ’عوامی عہدیدار کے زیر کفالت یا بےنامی دار پر فائدہ اٹھانے والوں پر قانون کا اطلاق ہوگا، عوامی عہدیدار کے اثاثوں کے ذرائع آمدن سے عدم موافقت کا تعین کرنے کے لیے ضلعی کلیکٹر اور ایف بی آر کی مدد حاصل کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا نیب آرڈیننس میں ترمیم کا فیصلہ

مجوزہ قوانین میں اختیارات کے ناجائز استعمال کی بھی تشریح کی گئی ہے، جس کے مطابق عوامی عہدیدار کے خلاف ٹھوس ثبوت کو اختیارات کا ناجائز استعمال سمجھا جائے گا، عدالت ملزم کو ریفرنس میں تمام دستاویزات فراہم کرنے کی پابند ہوگی۔

مسودے کو پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی میں پیش کردیا گیا جس پر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مشاورت کی جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں