نیند کی کمی کا شکار ملازمین کے لیے قیلولہ کے کیپسول تیار -
The news is by your side.

Advertisement

نیند کی کمی کا شکار ملازمین کے لیے قیلولہ کے کیپسول تیار

نیند کی کمی کا شکار اور ہر وقت غنودگی میں رہنے والے ملازمین دفاتر کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں جو ایک طرف تو کام پر منفی طور پر اثر انداز ہوتے ہیں، تو دوسری جانب نیند پوری نہ ہونے اور موڈ خراب ہونے کے باعث لڑائی جھگڑوں سے دفتر کا ماحول بھی خراب کرسکتے ہیں۔

ایسے ہی ملازمین کا مسئلہ حل کرنے کے لیے چین میں کیپسول ہوٹل کھول دیے گئے ہیں جہاں جا کر مختصر وقت کےلیے قیلولہ کیا جاسکتا ہے۔

بیجنگ میں کھلنے والے یہ کیپسول ہوٹل خلائی جہاز کے کیبن کی طرح کیپسول کی طرز پر بنائے گئے ہیں اور مختلف دفاتر کے ملازمین دن کے اوقات میں صرف 10 یو آن (چینی کرنسی) دے کر نصف گھنٹے کے لیے یہاں آرام کرسکتے ہیں۔

یہ قیمت دن کے اوقات کی ہے جب مختلف دفاتر کے ملازمین یہاں آ کر سونا چاہتے ہیں۔ شام میں یہ قیمت مزید کم ہو کر 6 یوآن ہوجاتی ہے۔

اس منصوبے کے خالق ہان یو کا کہنا ہے کہ اکثر دفاتر اس بات کو سمجھتے ہیں کہ دن کے درمیان میں ملازمین کو آرام کے لیے 1 گھنٹے کا وقفہ دیا جانا ضروری ہے، تاہم اس مقصد کے لیے وہ انہیں پرسکون جگہ فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

ان کے مطابق ان کا یہ باکفایت ہوٹل دفتر مالکان اور ملازمین دونوں کی پریشانی کا حل ہے۔

ہان یو کا ارادہ ہے کہ وہ مزید دیگر شہروں میں بھی اسی طرز کے ہوٹل قائم کریں۔

یاد رہے کہ طبی ماہرین کے مطابق دن کے درمیان میں 1 گھنٹے کا قیلولہ دماغ کو سکون پہنچا کر پھر سے تازہ دم کرتا ہے جس کے بعد ہم دن کے بقیہ حصے میں بھی اس مستعدی سے کام کرسکتے ہیں جیسے صبح کے اوقات میں۔

ماہرین کے مطابق دوپہر کے کھانے کے بعد ہمارا دماغ سست اور تھکن کا شکار ہوجاتا ہے اور ایسے میں اسے آرام پہنچانے کے لیے قیلولہ بہترین عمل ہے۔

مزید پڑھیں: پرسکون نیند لانے میں مددگار طریقے

روزانہ دوپہر میں 1 گھنٹے کا قیلولہ یادداشت اور دماغی کارکردگی میں بہتری کرتا ہے جبکہ یہ الزائمر اور دیگر دماغی بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔

دنیا کے کچھ ممالک جیسے اسپین اور پرتگال وغیرہ میں دوپہر کے کھانے کے بعد سرکاری طور پر ملازمین کو 1 گھنٹہ آرام کا وقفہ دیا جاتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں