نواز شریف کی جانب سے 3 ریفرنسز یکجا نہ کرنے کا فیصلہ ایک بار پھر چیلنج -
The news is by your side.

Advertisement

نواز شریف کی جانب سے 3 ریفرنسز یکجا نہ کرنے کا فیصلہ ایک بار پھر چیلنج

اسلام آباد: سابق وزیر اعظم نواز شریف نے احتساب عدالت کا 3 ریفرنسز یکجا نہ کرنے کا 8 نومبر کا فیصلہ ایک بار پھر چیلنج کردیا۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف نے احتساب عدالت کے اس فیصلے کو ایک بار پھر ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا ہے جس میں نواز شریف کی تینوں ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست مسترد کردی گئی اور نواز شریف پر تینوں ریفرنس میں باضابطہ فرد جرم عائد کردی گئی تھی۔

نواز شریف نے احتساب عدالت کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہے جبکہ درخواست میں وفاق اور احتساب عدالت کے جج کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئینی مؤقف کو احتساب عدالت نے سنا ہی نہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ کےاحکامات واضح ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ 8 نومبر کے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔

یاد رہے کہ 19 اکتوبر کو احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر فرد جرم عائد کی تھی جبکہ اسی روز عزیزیہ اسٹیل ریفرنس میں بھی نواز شریف پر فرد جرم عائد کردی گئی۔

بعد ازاں عدالت کا وقت ختم ہونے کے باعث اس سے اگلے روز 20 اکتوبر کو فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں بھی نامزد ملزم نواز شریف پر فرد جرم عائد کردی گئی۔

نواز شریف نے احتساب عدالت کی جانب سے تینوں ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست کی تھی جسے مسترد کردیا گیا جس کے بعد نواز شریف نے فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا تھا جسے سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا تھا۔

ابھی اس درخواست کی سماعت شروع بھی نہ ہوئی تھی کہ نواز شریف نے تینوں درخواستیں یکجا کرنے کی ایک اور درخواست احتساب عدالت میں دائر کردی جسے اگلے ہی دن مسترد کرتے ہوئے عدالت نے تینوں ریفرنس میں نواز شریف پر باضابطہ فرد جرم عائد کردی تھی۔

اس موقع پر نواز شریف کے وکلا کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے تک یہ کیس مزید نہیں چل سکتا، ہائیکورٹ نے 2 درخواستیں دوبارہ سننے کے احکامات جاری کیے تھے۔

نواز شریف نے احتساب عدالت کے اس فیصلے کو بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں