The news is by your side.

Advertisement

نواز شریف کا اداروں کے خلاف بیانیہ ن لیگ پر تھوپ دیا گیا

اسلام آباد: ملک سے باہر بیٹھے ہوئے نواز شریف کو آئین کی بالا دستی یاد آ گئی، نواز شریف کا اداروں کے خلاف بیانیہ ن لیگ پر تھوپ دیا گیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ن لیگ نے پارٹی رہنماؤں پر مسلح افواج اور ایجنسیوں سے ملاقاتوں پر پابندی لگا دی، نواز شریف کی ہدایت پر احسن اقبال نے مراسلہ جاری کر دیا۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ملکی مفادمیں کوئی بھی ملاقات پارٹی قائد کی اجازت سے ہوگی، ہم پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہمارا مؤقف ملک میں آئین کی بالا دستی ہے، اچھے مقصد کے لیے ملاقاتوں کو بھی غلط معنی پہنائے جاتے ہیں۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ن لیگ قائد کی تقریر پر پارٹی کارکنوں کی بھرپور پذیرائی اطمینان بخش ہے، پابندی کا یہ اقدام قیاس آرائیوں کو روکنے کے لیے کیاگیا، قائد ن لیگ کی خواہش ہے کہ شدید جمہوری بحران میں نواز شریف کے بیانیے کی مکمل حمایت کی جائے۔

وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے رد عمل میں کہا ہے کہ ن لیگ کا حکم نامہ نواز شریف نے اپنے غلاموں کو دیا ہے، یہ پاکستان کے دشمنوں مودی اور سجن جندال سے ملاقات کر سکتے ہیں کیوں کہ ذاتی تعلقات ہیں، کل نواز شریف کی صاحب زادی نے عدلیہ، ایجنسیز کو بھی نشانہ بنایا۔

انھوں نے کہا کہ اب ن لیگ کے سیاسی کارکنان کی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، لیکن عدالت سے مفرور ، نا اہل نواز شریف کیسے پابندی کا حکم دے سکتا ہے، نواز شریف ڈاکو، مفرور اور سرٹیفائیڈ چور ہے، ان کی جگہ صرف جیل ہے، ان کے پاس صرف درباری ہیں، سیاسی ورکروں کا ان کے پاس کام نہیں۔

احسن اقبال سے متعلق انھوں نے کہا آج تک احسن اقبال 500 ارب کا جواب نہیں دے سکا، احسن اقبال کا بھائی ان کی غلامی کرتے ہوئے پاسپورٹ آفس کا چیئرمین بنا تھا۔

اے آر وائی نیوز کے بیورو چیف اسلام آباد صابر شاکر نے کہا کہ یہ بنیادی طور پر مسلم لیگ ن کی بقا کی جنگ ہے، وہ جو بیانیہ دینا چاہ رہے ہیں اس پر عمل نہیں ہوگا۔ انھوں نے کہا اس پر عمل درآمد ہو نہیں سکتا کیوں کہ پاکستان مسلم لیگ ن جو الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ پارٹی ہے، اس میں ان کی قانونی و آئینی طور پر کوئی حیثیت نہیں ہے۔

صابر شاکر کا کہنا تھا کہ نواز شریف کسی رکن پارلیمنٹ کو ہدایت نہیں دے سکتے، ان کا ایسا کوئی حکم غیر قانونی تصور ہوگا، اگر کوئی رکن اس پر عمل نہیں کرتا تو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا، کیوں کہ نواز شریف اور مریم نواز دونوں الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ پارٹی کے لیے ایلینز ہیں۔

انھوں نے کہا کہ انڈین اور برطانوی ہائی کمیشن سے ملا جاسکتا ہے، ان کی اور امریکی ملٹری اتاشی سے ملاقاتیں ہو سکتی ہیں، ان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لوگوں سے ملاقاتیں ہو سکتی ہیں، اگر نہیں ہو سکتیں تو ہماری اپنی افواج پاکستان اور انٹیلی جنس ایجنسیز کے لوگوں سے نہیں، اس لیے میرا خیال ہے کہ اس نوٹیفکیشن کو کوئی نہ کوئی چیلنج کر دے گا۔

صابر شاکر نے کہا کہ یہ نوٹیفکیشن نواز شریف اور احسن اقبال کے لیے وبال جان بن جائے گا، کیوں کہ اس میں نواز شریف کو پارٹی کا قائد کہا گیا ہے لیکن وہ تو پارٹی کے کچھ بھی نہیں ہیں۔ وہ ایک مفرور مجرم ہیں اور یہ عدالت کہہ رہی ہے ہم نہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں