The news is by your side.

Advertisement

کورونا کی تیسری لہر، کاروباری مراکز ہفتے میں‌ 2 دن اور رات 8 بجے بند کرنیکا فیصلہ

اسلام آباد: نیشنل کنٹرول اینڈ کمانڈ سینٹر (این سی او سی) نے کورونا سے شدید متاثرہ شہروں میں سخت اقدامات کا فیصلہ کرلیا، 8 فیصد مثبت کورونا کیسز والے اضلاع، شہروں میں سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر اسد عمر کی زیر صدارت این سی او سی کا اجلاس ہوا جس میں صوبائی چیف سیکریٹریز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

این سی او سی نے ہائی رسک شہروں میں ںقل و حمل محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ہائی رسک شہروں میں ایمرجنسی کے علاوہ نقل و حمل پر پابندی ہوگی، متاثرہ اضلاع میں ان ڈور کھانوں پر مکمل پابندی ہوگی، ہائی رسک شہروں میں آؤٹ ڈور ڈائننگ رات 10 بجے تک ہوگی۔

اسد عمر کا کہنا ہے کہ ہائی رسک شہروں میں تجارتی سرگرمیوں کی رات 8 بجے تک اجازت ہوگی، انڈور مذہبی، ثقافتی اور موسیقی کی تقریبات پر پابندی ہوگی، ہائی رسک شہروں میں ہفتہ وار دو دن چھٹی ہوگی جبکہ ہفتہ وار دو دن چھٹی کے دنوں کا تعین صوبوں کی صوابدید ہوگی۔

این سی او سی کا کہنا ہے کہ ہائی رسک شہروں میں مزارات، سنیما ہال بند رہیں گے، کھیلوں، فیسٹیول ودیگر تقاریب کے انعقاد پر پابندی ہوگی۔

این سی او سی نے انڈور شادی کی تقریبات پر مکمل پابندی عائد کردی، شادی کی آؤٹ ڈور تقاریب منعقد کرنے کی اجازت ہوگی، آؤٹ ڈور تقاریب میں 300 مہمان شریک ہوسکیں گے، آؤٹ ڈور تقریب 2 گھنٹے میں 10 بجے تک ختم کرنی ہوگی۔

اسد عمر کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں پارکس مکمل طور پر بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، ایس او پیز کے ساتھ واکنگ، جاگنگ ٹریکس کھلے رہیں گے۔

این سی او سی کا کہنا ہے کہ سرکاری و نجی دفاتر،عدالتوں میں نصف عملہ گھر سےکام کرے گا، اندرون شہر پبلک ٹرانسپورٹ میں نصف سواریاں بٹھانے کی اجازت ہو گی، ریل گاڑیوں میں 70فیصد سواریاں بٹھانے کی اجازت ہو گی۔

اسد عمر کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں فیس ماسک کا استعمال لازم ہو گا، صوبے ماسک کا استعمال یقینی بنانے کیلئے سخت اقدامات کرینگے، ملک بھر کی عدالتوں میں آمدورفت کم رکھی جائے گی۔

این سی او سی نے کے پی، جی بی، آزادکشمیر کے سیاحتی مقامات پر سخت اقدامات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاحتی علاقوں کے داخلے پر ٹیسٹ کی سہولت فراہم کی جائیں گی۔

علاوہ ازیں سخت اقدامات کا سلسلہ 11 اپریل تک جاری رہے گا، این سی او سی 7 اپریل کو جاری اقدامات پر نظرثانی کرے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں