The news is by your side.

Advertisement

جرمنی میں تارکین وطن کے حوالے سے قوانین مزید سخت کیے جائیں گے

برلن: جرمنی میں تارکین وطن اور مہاجرین کی ملک بدری کے حوالے سے قوانین مزید سخت کیے جانے کا مکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں جرمن پارلیمان نے مہاجرین سے متعلق سخت ترین قوانین کی منظوری دی تھی جس پر مکمل طور پر عمل درآمد جلد کیا جائے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمنی میں پاس ہونے والے قوانین کے تحت تارکین وطن کی جرمنی میں زندگیاں مزید تنگ کردی جائیں گے جبکہ ملک بدری میں بھی اضافہ ہوگا۔

نئے قوانین کے تحت پناہ کی درخواست مسترد ہونے پر تارکین وطن کو فرار ہونے سے قبل ہی گرفتار کرلیا جائے گا اور انہیں خصوصی طور پر قائم کی گئی جیل کے ساتھ انہیں عام جیلوں میں بھی قید کیا جاسکتا ہے۔

حکام نے پناہ کی درخواست مسترد ہونے کی وجہ معلوماتی دستاویزات نہ ہونا بتایا ہے، جبکہ حراست میں لیے گئے تارکین وطن کی رہائی کا فیصلہ بھی صرف عدالت کرسکتی ہے۔

جرمن پارلیمان میں درخواست مسترد ہونے والے تارکین وطن کی ملک بدری کا قانون منظور

ایک اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ برس کے اختتام تک جرمنی میں دو لاکھ چالیس ہزار غیر ملکی ایسے تھے جنہیں لازمی طور پر جرمنی سے چلے جانا چاہیے تھا لیکن وہ پناہ کی درخواست مسترد ہونے کے باوجود ملک میں رہے، لیکن اب ایسے غیر ملکی باشندوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خیال رہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق پورپ میں مکمل آبادی کا دس فیصد حصہ مہاجرین کا ہے، بہتر روزگار اور خوشگوار زندگی گزارنے کی خواہش لیے اب تک ہزاروں مہاجرین غیرقانونی طور پر یورپ کے دیگر ممالک میں داخلے کے دوران بحیرہ روم میں ڈوب کر ہلاک ہوچکے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں