site
stats
اہم ترین

خان صاحب جس صحبت میں ہیں بتاؤں تو بڑے تماشے لگیں، چوہدری نثار

اسلام آباد: چوہدری نثار نے کہا ہے کہ وزیراعظم چیک اپ نہیں،علاج کیلئے لندن گئے ہیں ، مرض کی شدت کے باعث ماسکو میں رکنا ضروری تھا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی لندن روانگی کے حوالے سے بے بنیاد باتیں کی جارہی ہیں، وہ کسی سے ملاقات کرنے نہیں گئے علاج کی غرض سے لندن گئے ہیں۔

چوہدری نثار نے کہا کہ وزیر اعظم بھی انسان ہیں، ان کو کارڈیالوجی سے متعلق مسئلہ ہے، ہارٹ بیٹ کا مسئلہ ہے۔ ان کو طویل سفر کے بجائے مرحلہ وار سفر کا کہا گیا ہے،وزیر اعظم مصروفیت کے باعث گذشتہ طے شدہ چیک اپ کے لیے بھی نہیں گئے، پچھلے تین ہفتوں سے وزیر اعظم کی صحت ٹھیک نہیں، انہوں نے چند سال قبل بھی حرکت قلب کا لندن سے علاج کروایا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پچھلے تین ہفتوں سےوزیراعظم کی صحت خراب ہے ، ڈاکٹروں نےجیسے ہی اجازت دی وزیراعظم وطن واپس آئیں گے، بدقسمتی سےخود کو تعلیم یافتہ کہنے والے نچلی سطح پرآگئے ہیں، بیماری پرسیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریزکرناچاہیے۔

چوہدری نثارنےعمران خان کووارننگ دے دی کہتے ہیں بطوروزیرداخلہ اگرکچھ چیزیں پبلک کردوں توبہت مسئلہ ہوجائے گا ،عمران خان کس صحبت میں اگربتادیا تو تماشا لگ جائے گا۔

دوسرااہم ایشویہ ہےکہ کیاپیسہ کرپشن کے ذریعے کمایا گیا،ایشویہ ہےکہ جوپیسہ بزنس میں استعمال کیاگیاہےکیاوہ پاکستان سے گیا، کیاحسن نوازاورحسین نوازکے بزنس کے لیے پیسہ پاکستان سے گیا، اپوزیشن فیصلہ کرلےکہ تحقیقات کس سے کرانی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جعلی کمیشن بناناہوتاتوججزسےرابطےکی ضرورت کیاتھی، کچھ چھپانا ہوتا تو سپریم کورٹ کےججزسے رابطےنہ کیےجاتے، پاناما لیکس کے معاملے پر کئی ججز سے رابطہ کیا،جسٹس ناصرالملک،جسٹس تصدق گیلانی سےدرخواست کی گئی جبکہ جسٹس تنویرسے بھی رابطہ کیاگیا، کئی ججزنے ٹائم مانگا،کئی نےوجہ بتائے بغیرمعذرت کرلی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ عمران خان کو کہا کہ آپ ایف آئی اے افسرکانام لیں اس سےتحقیقات کرائیں گے،عمران خان نے ایف آئی اےافسرکے بجائے کسی اور افسرکانام لیا، جس کانام لیانہ وہ ایف آئی اےمیں رہےنہ ہی حاضرسروس افسر ہیں۔

چوہدری نثارنےکہاہے کہ عمران خان اور دیگر مخالفین کےمطالبےپر ایف آئی اے کو تحقیقات کےلئےمنتخب کیاتھا، اعترازاحسن نےدانشوری کالبادہ اوڑھاہواہے۔

چوہدری نثار نےکہاہےکہ وزیراعظم کے صاحبزادے حسن نواز اورحسین نواز خود جواب دہ ہیں، سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ وزیراعظم اوران کی اہلیہ کامعاملہ نہیں ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top