site
stats
Uncategorized

دوران قید مرد سے عورت بننے والے امریکی فوجی کو معافی

واشنگٹن: امریکی صدر براک اوباما نے اپنے دور صدارت کے آخری ہفتے میں 209 افراد کی سزاؤں میں کمی اور 64 قیدیوں کے لیے معافی کا اعلان کردیا، رہائی پانے والے افراد میں وکی لیکس کو خفیہ اطلاعات فراہم کرنے والا مرد فوجی بریڈلے میننگ بھی شامل ہے، جس نے اب مکمل طور پر عورت کا روپ اختیار کرلیا ہے۔

امریکی خبر رساں کے مطابق بارک اوباما کی جانب سے جن لوگوں کی سزاؤں میں کمی کی گئی ہے ان میں سب سے اہم نام حساس حکومتی و عسکری معلومات وکی لیکس کو دینے والے سابق فوجی اہلکار بریڈلے میننگ کا ہے۔

بریڈلے کو 2010 میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے گرفتار کیا تھا اور اُس نے اپنے جرم کا بھی اعتراف کیا جس کے بعد اُسے 35 سال کی سزا سنائی گئی تھی تاہم دورانِ قید مرد فوجی نے خود کو عورت کہتے ہوئے اپنا نام بریڈلے میننگ سے چیلسی میننگ کرلیا تھا۔

امریکی حساس ادارے کے اہلکار کو سزا کاٹتے ہوئے تقریبا برس ہوئے ہیں تاہم اب وہ اُن خوش نصیبوں میں شامل ہوگیا ہے جسے امریکی صدر نے معاف کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا ہے، بارک اوباما کے احکامات کی روشنی میں بریڈلے کی سزا 15 مئی 2017 کو ختم ہوجائے گی۔

bredlay-meanning

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بریڈلے نے قید کے دوران دو بار خودکشی کرنے کی کوشش کی جس میں وہ ناکام رہا، بریڈلے نے مسلسل ناکامیوں کے بعد اپنے روپ کو تبدیل کرتے ہوئے خود کو عورت کہنا شروع کردیا۔

بریڈلے میننگ نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے بغداد میں بطور انٹیلی جنس تجزیہ کار کام کے دوران 2009ء اور2010ء میں ہزاروں کی تعداد میں عراق اور افغانستان کی جنگی رپورٹیں، سفارتی اور دوسرے خفیہ دستاویزات اور خفیہ ویڈیو کلپس وکی لیکس کو فراہم کی تھیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top