site
stats
اہم ترین

آئل ٹینکرزکی ہڑتال ختم ، کراچی میں پیٹرول پمپس پرسپلائی شروع

کراچی : آئل ٹینکرزایسوسی ایشن کی ہڑتال کے باعث پیٹرول کی قلت کے بعد پیٹرول پمپس پر سپلائی بحال کردی گئی ہے، پمپس پرآئل ٹینکرزپہنچ گئے جس کے بعد عوام کو پیٹرول کی فراہمی شروع کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق سیلز ٹیکس کیخلاف آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کی ہرٹال کے باعث آج کراچی میں پیٹرول کی شدید قلت پیدا ہوگئی تھی۔ شہری پیٹرول کے حصول کیلئے دربدرہوگئے۔ پمپس پر پٹرول کا اسٹاک ختم ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

بعد ازاں متعلقہ انتظامیہ سے کامیاب مذاکرات کے بعد آئل ٹینکرزایسوسی ایشن ہڑتال ختم کردی، یاد رہے کہ سیلزٹیکس کیخلاف آئل ٹینکرزایسوسی ایشن کی ہڑتال تین روزسے جاری تھی۔ جس کی وجہ سے شہر کے پیٹرول پمپس کو تین روز سے سپلائی بند تھی۔

 شہری دن بھر پیٹرول کے حصول کیلئے رلتے رہے

شہر کے بیشتر پمپس پرپیٹرول اورڈیزل ناپید ہوگیا۔ شہری پیٹرول پمپس کے چکر لگا لگا کررُل گئے۔ آئل ٹینکرز کنٹریکٹرزنے خدمات پرسیلزٹیکس کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹیکس واپس لینے تک پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی بند رہے گی۔

شہر میں آج دن بھرپیٹرول پمپس پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی رہیں، لوگ ایک ایک لیٹر پیٹرول کےلیے خوار ہوتے رہے، شہری جس پیٹرول پمپ پر جاتے وہاں سے ناکام لوٹتے، مشتعل شہری پیٹرول پمپ کے عملے سے لڑ پڑے اور پٹرول پمپ پر لگی رکاوٹیں بھی ہٹادیں۔

اس دوران اکثرمقامات پر لوگوں کے درمیان جھگڑوں کے واقعات بھی رونما ہوئے، شدید گرمی لوگوں کو گاڑیاں گھسیٹنا پڑگئیں۔

واضح رہے کہ پیٹرول کی قلت ٹیکنرزایسوسی ایشن کی ہڑتال کی وجہ سےہوئی تھی جنہوں نے ٹیکس لگانے کے خلاف سپلائی روک دی تھی، حکومت سے مذاکرات کے بعد ہڑتال تو ختم کردی گئی لیکن اس دوران شہری جس اذیت سے گزرے اس کا کوئی حساب ہے نہ احتساب۔

کراچی میں سی این جی کھلی رکھنے کا مطالبہ

دوسری جانب پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے کل کراچی میں سی این جی کھلی رکھنے کا مطالبہ کردیا ہے، چیئرمین پیٹرولیم ڈیلرزایسوسی ایشن عبدالسمیع خان کا کہنا ہے کہ حکومت کل سی این جی اسٹیشنز کھلے رکھنے کے اقدامات کرے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قلت بڑھ رہی ہے، کراچی کے پینتیس فیصد پمپس پر پیٹرول اور ڈیزل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top