site
stats
اہم ترین

دفاعِِِ وطن کیلئے قوم کا بچہ بچہ تیار ہے، وزیراعظم

اسلام آباد : وفاقی کابینہ نے بھارت کی جانب سے پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیک اور اڑی حملے کا الزام مسترد کردیا، کابینہ نے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کی ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔

وزیراعظم نوازشریف کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، سیکرٹری خارجہ نے وفاقی کابینہ کو ایل او سی کی صورتحال ، پاک بھارت کشیدگی پر بریفنگ دی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ بھارت اڑی حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکا۔ بھارت نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرکے عالمی قوانین اور سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی، بھارت نے لائن آف کنٹرول کی دوبارہ خلاف ورزی تو قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

کابینہ نے واضح کیا کہ بھارتی وزیراعظم کے حالیہ بیانات نے ثابت کردیا ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ کابینہ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت اور لائن آف کنٹرول پر دہشت گردی کو عالمی سطح پر اٹھانے کا بھی فیصلہ کیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ غربت اور بیروزگاری کا خاتمہ، عوامی ترقی اور خوشحالی کی منزل حاصل کرنا ہمارا عزم ہے جس کیلئے ہم سرگرم ہیں، ان مقاصد کے حصول کیلئے ہم امن چاہتے ہیں، دفاع وطن کیلئے قوم کا بچہ بچہ تیار ہے۔

انھوں‌نے کہا کہ مادر وطن کے تحفظ کیلئے پوری قوم بہادر مسلح افواج کے شانہ بشانہ ہے، کسی کو پاک سرزمین پر میلی نگاہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائیگی، کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارتی افواج کے مظالم کشمیریوں کے جذبہ حریت کو نہیں کچل سکتے۔

نواز شریف نے کہا کہ بھارت کی مقبوضہ کشمیرمیں جاری اندھی بربریت اورجارحیت ناقابل قبول ہے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس سے قبل ارکان نے کشمیر میں بھارتی مظالم کی پر زور مذمت کی، وزیر دفاع خواجہ آصف نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارتی مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے کیلئے تیار ہیں تاہم مسلح تصادم سے خطے میں تباہی آسکتی ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ کشمیر میں مظالم ڈھانے سے بھارت کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، کشمیری بھائیوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کرتے رہیں گے۔

مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ بھارت مسئلہ کشمیرکے حل سے فرار چاہتا ہے۔

امیر مقام نے کہا کہ پاکستانی قوم متحد ہے، کشمیر کا مسئلہ طاقت سے حل نہیں کیا جاسکتا۔

گذشتہ روز وزیراعظم نوازشریف نے اشتعال انگیزی پر بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پُرامن ہمسائیگی کو کمزوری نہ سمجھا جائے،خود مختاری کے خلاف کسی بھی کوشش کا بھرپورجواب دیناجانتےہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top