site
stats
ماحولیات

پاک بحریہ کی مینگرووز اگاؤ مہم کا آغاز

کراچی: پاک بحریہ نے یوم آزادی کے موقع پر صوبہ سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں ’پاک بحریہ مینگروز اگاؤ مہم 2017‘ کا آغاز کردیا جس کے تحت 10 لاکھ پودے لگائے جائیں گے۔

اس سلسلے میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد ذکا اللہ نے تیمر (مینگرووز) کا پودا لگا کر مہم کا افتتاح کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد ذکا اللہ نے کہا کہ تیمر کے جنگلات میں کمی نہ صرف ہمارے ساحلی علاقوں کے حیاتی ماحول بلکہ ساحلی مکینوں کے ذریعہ معاش کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اس طرح کی مہمات نہ صرف تیمر کے جنگلات میں اضافے کا باعث ہوں گی بلکہ عوام الناس میں ان جنگلات کے بارے میں آگاہی کے فروغ میں کلیدی کردار بھی ادا کریں گی۔

نیول چیف نے متعلقہ وفاقی اور صوبائی محکموں اور معاشرے کے تمام حلقوں کے اس نیک مقصد میں اپنا کردار ادا کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے تیمر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اعلان کیا کہ اس مہم کا نام بدل کر ’قومی مہم برائے مینگرووز اگاؤ‘ رکھ دیا گیا ہے۔

پاک بحریہ مینگرووز اگاؤ مہم 2017 کی افتتاحی تقریب میں عسکری و سول شخصیات بشمول تاجر برادری، صحافیوں، عالمی ادارہ برائے تحفظ جنگلی حیات ڈبلیو ڈبلیو ایف، عالمی ادارہ برائے تحفظ فطرت آئی یو سی این اور وفاقی اور صوبائی محکمہ جنگلات کے نمائندگان نے شرکت کی۔

 بحریہ کے ترجمان کے مطابق میری ٹائم کے شعبے میں مرکزی شراکت دار ہونے کے ناطے اور آبی حیات کے لیے مینگرووز کی اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے پاک بحریہ نے ساحلی پٹی پر مینگرووز کے جنگلات کو دوبارہ اگانے کا اہم قدم اٹھایا ہے۔

پاک بحریہ تیمر کو اگانے کی خصوصی مہمات کا اہتمام تواتر کے ساتھ کرتی ہے۔

بحریہ نے گزشتہ سال بھی سندھ اور بلوچستان کے محکمہ جنگلات، ڈبلیو ڈبلیو ایف اور آئی یو سی این کے اشتراک سے 10 لاکھ سے زائد تیمر کے پودے لگائے تھے۔

تیمر کی افادیت

پاکستان میں صوبہ سندھ کے ساحلی شہر کراچی کے ساحل پر واقع مینگرووز کے جنگلات کا شمار دنیا کے بڑے جنگلات میں کیا جاتا ہے۔ یہ جنگلات کراچی میں سینڈز پٹ سے لے کر پورٹ قاسم تک پھیلے ہوئے ہیں۔

تیمر کے جنگلات ساحلی علاقوں کو قدرتی آفات سے بچانے کے لیے قدرتی دیوار کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ان کی جڑیں نہایت مضبوطی سے زمین کو جکڑے رکھتی ہیں جس کے باعث سمندری کٹاؤ رونما نہیں ہوتا اور سمندر میں آنے والے طوفانوں اور سیلابوں سے بھی حفاظت ہوتی ہے۔

ساحلی پٹی پر موجود مینگروز سمندری طوفان کے ساحل سے ٹکرانے کی صورت میں نہ صرف اس کی شدت میں کمی کرتے ہیں، بلکہ سونامی جیسے بڑے خطرے کے آگے بھی حفاظتی دیوار کا کام کرتے ہیں۔

سنہ 2004 میں بحیرہ عرب میں آنے والے خطرناک سونامی نے بھارت سمیت کئی ممالک کو اپنا نشانہ بنایا تاہم پاکستان انہی تیمر کے جنگلات کی وجہ سے محفوط رہا۔


تاہم ایک عرصے سے کراچی کو خوفناک سمندری طوفانوں اور سیلابوں سے بچائے رکھنے والا یہ تیمر اب تباہی کی زد میں ہے۔

بیسویں صدی کے شروع میں یہ مینگرووز 6 لاکھ ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے تھے جو اب گھٹتے گھٹتے صرف 1 لاکھ تیس ہزار ایکڑ تک رہ گئے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top