The news is by your side.

Advertisement

پاناماکیس : نام آگئےجےآئی ٹی آج ہی تشکیل دی جائے گی‘سپریم کورٹ

اسلام آباد :سپریم کورٹ کےتین رکنی بینچ نےپاناماکیس کی سماعت مکمل کرلی۔عدالت عظمی کاکہناہےکہ نام آگئے ہیں اور جے آئی ٹی آج ہی تشکیل دی جائے گی۔

تفصیلات کےمطابق پاناماکیس میں سپریم کورٹ کے تین رکنی خصوصی بینچ نےجسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جے آئی ٹی کی تشکیل کےحوالےسےسماعت کی۔

سپریم کورٹ میں سماعت کےدوران قائم مقام گورنراسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایس ای سی پی عدالت میں پیش ہوئے۔دونوں اداروں میں کام کرنےوالےگریڈ18کےافسران کی فہرست عدالت میں پیش کی گئی۔

جے آئی ٹی کی تشکیل کے لیے سماعت کےدوران جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ جے آئی ٹی کےلیے بھیجے گئے نام باہرکیسے نکلے؟ادارے سیکریسی برقرار کیوں نہیں رکھ سکتے؟

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ فہرست عدالت پہنچنے سے پہلے اداروں نے نام خود آؤٹ کیے۔انہوں نےکہاکہ آپ کے بھیجےہوئے ناموں کی تصدیق کرائی گئی ہے۔

عدالت عظمیٰ میں سماعت کےدوران جسٹس اعجازالاحسن نے ریماکس دیے کہآپ کے بھیجے ہوئے ناموں کی تصدیق کرائی گئی ہے۔انہوں نےکہاکہ ایسے لگا ہمارے ساتھ کھیل کھیلا جارہا ہے۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے سماعت کےدوران ریماکس دیےناموں کی سیاسی وابستگی سے متعلق منفی رپورٹ ملی ہےجبکہ نام لیک ہونے کے ذمہ دار اداروں کے سربراہ ہیں۔جسٹس اعجازالاحسن نے سوال کیا کہ متنازع کمیشن کا فائدہ کس کو ہوگا؟۔


پاناما کیس : سپریم کورٹ نے دو جے آئی ٹی ممبران کے نام مسترد کردیے


خیال رہےکہ 3مئی 2017 کوسپریم کورٹ نے پاناماکیس میں جے آئی ٹی کے لیے اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی کی جانب سے بھیجے گئے ناموں کو مستردکردیاتھاجبکہ دیگر چار اداروں كی طرف سے بھجوائے گئے نام عدالت عظمی نے منظور کرلیےتھے۔

یاد رہےکہ پاناماکیس میں سپریم کورٹ کے20اپریل کے فیصلےپر عمل درآمد کرانے کےلیےعدالت عظمیٰ کےلارجربینچ نے چیف جسٹس پاکستان سے خصوصی بینچ تشکیل دینے کی درخواست کی تھی۔

سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نےفیصلے میں شریف خاندان پرلندن جائیدادوں کےحوالےسےلگائےگئے الزامات کی تحقیقات کےلیےمشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔

واضح رہےکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بینچ کی جانب سےجے آئی ٹی تشکیل دے گی جو 15 روز بعد اپنی عبوری رپورٹ عدالت میں پیش کرے گی جبکہ 60 روز میں تحقیقات مکمل کرکے اپنی حتمی رپورٹ بینچ کےسامنےجمع کرائے گی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں