The news is by your side.

Advertisement

پیرس حملوں کے ملزم کو پولیس پر فائرنگ کے الزام میں بیس سال قید

برسلز: پیرس حملوں کے ملزم عبد السلام اور ان کے ایک ساتھی کو بیلجیم کے دارالحکومت برسلز کی عدالت نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے الزام میں بیس سال قید کی سزا سنادی۔

تفصیلات کے مطابق 2015 میں پیرس کے دہشت گردانہ حملوں کے واحد زندہ مشتبہ ملزم فرانسیسی شہری صالح عبد السلام کو ان کی غیر موجودگی میں دہشت گردانہ محرکات کے تحت اقدام قتل کے ایک علیحدہ مقدمے میں سزا سنائی گئی ہے۔

عبد السلام کے خلاف پیرس حملوں کے الزامات کے تحت مقدمے کی سماعت تاحال شروع نہیں ہوئی ہے تاہم برسلز میں ایک الگ مقدمے میں انھیں قصور وار قرار دیتے ہوئے عدالت نے کہا ہے کہ جب وہ پولیس اہل کاروں پر فائرنگ کر رہا تھا تو اس کی سوچ دہشت گردانہ ہی تھی، خیال رہے اس کیس کی پہلی سماعت میں عبدالسلام نے عدالت پر مسلمانوں کے خلاف تعصب برتنے کا الزام لگایا تھا۔

واضح رہے کہ مارچ 2016 میں عبدالسلام اور ان کے ساتھی تیونس کے شہری سفیان عیاری پر بیلجیم پولیس کی طرف سے ایک چھاپے کے دوران فائرنگ کرنے کا الزام تھا، عدالت کا اپنے فیصلے میں کہنا تھا کہ ’ملزمان کی بنیاد پرستانہ سوچ کی جڑیں بہت گہری ہیں۔‘

پیرس حملے کے مرکزی ملزم کا شرمناک بیان

خیال رہے کہ 13 نومبر 2015 کو پیرس میں ایک ہی دن میں چھ مختلف مقامات پر دہشت گردانہ حملوں میں ایک سو تیس افراد مارے گئے تھے، ان حملوں کو فرانس میں جنگ عظیم کے بعد کیے جانے والے سب سے زیادہ ہلاکت خیز حملے تصور کیا جاتا ہے۔ اس مقدمے میں عبدالسلام کو بیلجیم سے ملک بدر کرکے فرانس کے حوالے کیا گیا تھا جہاں وہ تاحال قید میں ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں