site
stats
شاعری

پھروہی میں ہوں وہی شہربدرسناٹا

پھر وہی میں ہوں وہی شہر بدر سناٹا
مجھ کو ڈس لے نہ کہیں خاک بسر سناٹا

دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
ہجر والوں نے لیا رختِ سفر سناٹا

کس سے پوچھوں کہ کہاں ہے مرا رونے والا
اس طرف میں ہوں مرے گھر سے ادھر سناٹا

تو صداؤں کے بھنور میں مجھے آواز تو دے
تجھ کو دے گا مرے ہونے کی خبر سناٹا

اس کو ہنگامۂ منزل کی خبر کیا دو گے
جس نے پایا ہو سر راہ گزر سناٹا

حاصل کنج قفس وہم بکف تنہائی
رونق شام سفر تا بہ سحر سناٹا

قسمت شاعر سیماب صفت دشت کی موت
قیمت ریزۂ الماس ہنر سناٹا

جان محسنؔ مری تقدیر میں کب لکھا ہے
ڈوبتا چاند ترا قرب گجر سناٹا

***********

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top