The news is by your side.

Advertisement

بھارتی ماڈل کا گائے کے ماسک میں فوٹو شوٹ

نئی دہلی: بھارت میں گائیوں کے تحفظ کے لیے تشدد اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے اور اسی رجحان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایک بھارتی ماڈل نے گائے کا ماسک پہن کر فوٹو شوٹ کروایا جس پر انتہا پسندوں نے ایک بار پھر ہنگامہ کھڑا کردیا۔

ایک پروجیکٹ کے تحت یہ تصاویر کھینچنے والافوٹو گرافر سجاتر گھوش اس وقت پورے بھارت کا موضوع گفتگو بن چکا ہے۔ اس کے جرات مندانہ اقدام پر ایک طرف تو اسے سراہا جارہا ہے تو دوسری طرف انتہا پسند اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔

ان تصاویر کے ذریعے گھوش مودی سرکار سے پوچھ رہا ہے کہ کیا بھارت میں مال مویشی عورت سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں؟

ایک انٹرویو میں اس نے کہا، ’کسی گائے کے ساتھ برا سلوک ہونے پر لوگ فوراً اس گائے کا بدلہ لینے کے لیے میدان میں اتر آتے ہیں۔ لیکن زیادتی کا شکار کسی عورت کو انصاف کے حصول میں سالوں لگ جاتے ہیں، پھر بھی وہ انصاف پانے میں ناکام رہتی ہے‘۔

گھوش کی کھینچی گئی یہ تصاویر سوشل میڈیا پر بے حد مقبول ہورہی ہیں۔

یاد رہے کہ مودی کے برسر اقتدار میں آنے کے بعد بھارت میں گائے کے تحفظ کے نام پر مسلمان دشمنی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ لاتعداد مسلمانوں کو گائے لانے لے جانے یا ذبح کرنے کے شبہ میں بے دردی سے قتل کیا جاچکا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت میں گائے محفوظ لیکن عورتیں غیر محفوظ ہیں، جیا بچن

دوسری جانب ملک میں خواتین سے زیادتی اور چھیڑ چھاڑ کے واقعات میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوچکا ہے اور خود مودی سرکار نے اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر میں ہر 15 منٹ میں ایک خاتون کے ساتھ زیادتی کا واقعہ رونما ہوتا ہے۔

اس بھیانک مسئلے کی طرف توجہ دلانے کی پاداش میں اب سجاتر گھوش کو انتہا پسندوں کی جانب سے دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں