The news is by your side.

Advertisement

1960 کےبعد پہلی حکومت آئی ہے، جوپاکستان کو انڈسٹریالائز کرنا چاہتی ہے، وزیراعظم

فیصل آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ 1960کے بعد پہلی حکومت آئی ہے، جو پاکستان کو انڈسٹریالائز کرنا چاہتی ہے، صنعتوں کی ان پٹ آئے گی تو ہم آپ کی رکاوٹیں دور کرتے جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے فیصل آباد میں تاجربرادری اور برآمدکنندگان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہائیکورٹ ہر ڈویژن میں ہونا چاہیے میں اس بات سے متفق ہوں، عوام کیلئے سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ،لوگوں کو دور نہ جانا پڑے ہر چیز گھر کے قریب ملے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ماضی کے تجربات سےسیکھ کر نیالوکل گورنمنٹ سسٹم لارہے ہیں، لاہور پر پیسہ لگائیں گے تو باقی پنجاب پیچھے رہ جائے گا، مسائل کے حل کیلئے مضبوط بلدیاتی نظام بہت اہم ہے ، دنیا کے تمام بڑے شہروں میں مضبوط بلدیاتی نظام ہے۔

فیصل آباد کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ فیصل آباد پاکستان کا امیر ترین شہر ہے مگر اس کا انحصارحکومت پر ہوتا ہے، ایسا سسٹم لارہے ہیں کہ ہر شہر کا اپنا میئر ہوگا جس کا براہ راست الیکشن ہوگا، انشااللہ ایک دن مانچسٹر کہے گا کہ فیصل آباد ہم سے آگے نکل گیا۔

ملکی قرضوں سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس وقت تاریخی قرضے چڑھے ہوئے ہیں، پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنا قرضہ نہیں تھا ، باہر ڈالر زیادہ اور اندر کم آئے تو کوئی ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، کرنسی کی قدر گرنا ملک کےلئے سب سے بڑا بحران ہوتاہے۔

وزیراعظم نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے حوالے سے کہا کہ ایکسپورٹ کی کمی مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ ہے ، 40ارب کا ٹریڈ گیپ ہوتو ملک کی کرنسی تو گرتی ہی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ جب حکومت میں آئے تو سخت معاشی بحران کا سامناتھا، جو پاکستان ملا وہ سب سے مشکل حالات میں تھا ، اسد عمر جب وزیرخزانہ تھے تو انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس دینے کیلئے پیسے نہیں، ہمارے باہر کے لوگوں نے اس وقت مدد کی جس سے ہم ڈیفالٹ سے بچ گئے اور اللہ نے ہمیں بڑے مشکل وقت سے نکالا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ آگے بڑھنے کیلئے انسان کو بڑی سوچ رکھنی چاہیے ، 2018میں20ارب ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کاسامنا تھا ، بد قسمتی سے روپے کی قدر کو مصنوعی رکھ کر ملک کا نقصان کیا گیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دبئی کے شیخ پہلے کراچی میں چھٹیاں منانے آیا کرتے تھے، پاکستان کا ایک مقام تھا ہم کیسے نیچے آئے یہ دکھ بھری کہانی ہے، چین نے 70کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا۔

عمران خان نے کہا کہ جائز منافع کمانے کو جرم کہیں گے توکوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا، جو جائز منافع کمائے تو اسے ٹیکس بھی دینا چاہیے ، ہماری پوری کوشش ہے کہ پاکستان کی ایکسپورٹ بڑھے، ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے اقدامات کرنا حکومت کا کام ہے۔

ایف بی آر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر میں اصلاحات چل رہی ہیں،ٹیکنالوجی کا استعمال کیاجارہاہے، ایف بی آر میں پیسے لینے اور ہراسمٹ کیخلاف ہماری جدوجہد چل رہی ہے۔

وزیراعظم نے عالمی وبا کے اثرات سے متعلق کہا کہ کورونا کی صورتحال کے باعث دنیا مشکل سے گزر رہی ہے، بھارت سمیت باقی ملکوں کی نسبت ہم نے اپنے غریبوں ،انڈسٹری کو بچایا، فیصلے اس لئے بہتر ہوئے کیونکہ ہم نے معیشت ، لوگوں کو کوروناسے بچاناتھا، این سی اوسی کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتاہوں ، فیصلے اچھے ہوئے۔

عمران خان نے حماد اظہر اور معاشی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گورنراسٹیٹ بینک نے بھی بڑا زبردست کام کیاہے، کورونا سے نمٹنے پرڈبلیو ایچ او نے آج پاکستان کی مثال دی ہے۔

پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کورونا کی دوسری لہر آرہی ہے ،اس لئے آج چھوٹی تقریب کی ہے، سب سے کہتاہوں کہ ماسک پہنیں ،ایس اوپیزپرعمل کریں ، اسپتالوں پر دباؤ پڑا تو معیشت کونقصان اور غربت بڑھےگی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا کام انڈسٹری کی مدد کرنا ہے تاکہ روزگار کے مواقع بڑھیں ، ملک کی دولت بڑھے گی تو قرضے اتارنے میں آسانی ہوگی ، پیسہ آئے گا تو ہم قرضوں کا پہاڑ اتارسکیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ کراچی کیلئے بھی بڑا پیکج تیار کررکھا ہے ، آپ پاکستان کے انڈسٹریل حب ہیں ،اوپر جائیں تو پاکستان اوپر جائے گا، وہ الگ بات ہے کہ آپ میں اتنا شعور تھا کہ صحیح جماعت کو ووٹ دیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ 1960کےبعدپہلی حکومت آئی ہے جوپاکستان کو انڈسٹریلائز کرنا چاہتی ہے ،صنعتوں کی ان پٹ آئے گی تو ہم آپ کی رکاوٹیں دور کرتے جائیں گے ، اسٹیٹ بینک کاروباری حضرات کے مسائل تسلسل سے حل کررہاہے، میری درخواست ہے اپنے کاروبار کی ترقی کیساتھ مزدوروں کو نہ بھولیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں