The news is by your side.

Advertisement

پاکستان مخالف کشمیری بھی آج کہہ رہے ہیں قائد اعظم کا دو قومی نظریہ درست تھا: وزیر اعظم

نازیوں کی نسل کشی کا شور مچانے والی مغربی دنیا کو مسلمانوں کی نسل کشی نظر نہیں آرہی

اسلام آباد: وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے منعقدہ پارلیمنٹ کے اہم مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مخالف کشمیری بھی آج کہہ رہے ہیں قائد اعظم کا دو قومی نظریہ درست تھا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہونے والے مشترکہ اجلاس کی خصوصی اہمیت ہے، آج کا اجلاس نہ صرف پاکستانی قوم بلکہ بھارتی اور کشمیری عوام بھی دیکھ رہی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آج اس فورم سے ایک مضبوط پیغام جانا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو کوشش کی پاکستان میں غربت ختم کی جائے، ہماری کوشش تھی پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات اچھے کریں۔ پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات اچھے نہ ہوں تو نقصان سب کا ہوتا ہے۔ بھارت کو پیغام دیا کہ ایک قدم بڑھائیں گے تو ہم دو قدم آگے آئیں گے۔ افغان حکومت کو بھی کہا ماضی کو چھوڑیں مستقبل کو دیکھیں۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ تعلقات ہمیشہ سے اچھے رہے ہیں، مختلف ممالک اور آخر میں امریکا کے ساتھ بھی تعلقات اچھے کیے۔ مودی کے ساتھ ملاقات میں ان کے تحفظات سنے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات شروع کیے لیکن دوسری جانب سے جواب نہیں ملا، ایسے وقت میں پلوامہ واقعہ ہوگیا اور الیکشن میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی۔ بھارت نے عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ بھارت نے ڈوزیئر بعد میں اور اپنے جہاز پہلے بھیج دیے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پلوامہ واقعے کو بھارتی قیادت نے الیکشن کے لیے استعمال کیا، اللہ کا شکر ہے بھارت کے جہازوں کا پاکستان نے درست جواب دیا۔ بشکک میں بھارت کا رویہ دیکھ کر فیصلہ کیا کہ یہ ہماری امن کی کوشش کو غلط سمجھ رہے ہیں۔ بشکک میں مودی سے ملاقات میں اندازہ ہوا یہ لوگ مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں۔ ہم نے فیصلہ کیا بھارتی قیادت سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بشکک میں ہی اندازہ ہوگیا تھا بھارت مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں، اب بھی کہتا ہوں بھارت ہم سے مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہی نہیں۔ کل جو مودی سرکار نے حرکت کی اس کا ہمیں اندازہ تھا۔ کل جو انہوں نے کیا یہ مودی سرکار کا الیکشن ایجنڈا تھا۔ بھارت کی سرد مہری کے باعث امریکی صدر کو ثالثی کا کہا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اصل میں آر ایس ایس کے بیانیے پر کام کر رہی ہے، آر ایس ایس چاہتا ہے بھارت صرف ہندوؤں کا ملک بنایا جائے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں بھارت سے مسلمانوں کو نکال دیا جائے۔ مسلمانوں کو بھارت پر پانچ چھ سو سال حکمرانی کی سزا دی جارہی ہے۔ انگریزوں کے جانے کے بعد ان کی کوشش تھی مسلمانوں کو نچلی سطح تک محدود رکھیں۔ آج ہمیں قائد اعظم محمد علی جناح کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ قائد اعظم نے جو ماضی میں کہا وہ آج درست ثابت ہو رہا ہے، قائد اعظم نے کہا تھا انگریزوں کے جانے کے بعد ہندو مسلمان کو غلام بنائیں گے۔ جو لوگ ماضی میں قائد اعظم پر تنقید کرتے تھے وہ آج ان کی تعریف کرتے ہیں، پاکستان مخالف کشمیری بھی آج کہہ رہے ہیں قائد اعظم کا دو قومی نظریہ درست تھا۔ قائد اعظم نے مدینہ کی ریاست سے نظریہ اٹھایا تھا۔ قائد اعظم چاہتے تھے ایسا معاشرہ ہو جہاں سب آزاد ہوں۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نظریہ پاکستان میں کسی قسم کا تعصب نہیں تھا، 11 اگست کو قائد اعظم نے خطاب میں کہا تھا پاکستان میں سب کو مذہبی آزادی ہے۔ قائد اعظم مسلم ہندو کمیونٹی کے سفیر سمجھے جاتے ہیں، پاکستان میں اقلیت کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے دین کے منافی ہے۔ بھارت میں ہندوؤں کی آئیڈیالوجی یہ ہےجو آج وہاں اقلیت کے ساتھ ہو رہا ہے، ہمارا مقابلہ نسل پرستانہ ذہنیت کے ساتھ ہے۔ آج بھارت میں جو ہو رہا ہے کچھ نسل پرستانہ ذہنیت یہ ہی چاہتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 5 سال سے جو کشمیریوں کے ساتھ ہو رہا ہے کیا وہ بھول جائیں گے، بھارت کے قانون سے کیا کشمیری اپنی جدوجہد روک دیں گے، بھارت اب جدوجہد آزادی کو مزید دبانے کی کوشش کرے گا۔ بھارت کی انتہا پسند ذہنیت کشمیریوں کو اپنے برابر کے انسان نہیں سمجھتی۔ بھارت اب کشمیریوں کو کچلنے کی کوشش کرے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آج پیشگوئی کرتا ہوں یہ پھر پلوامہ جیسا واقعہ کریں گے، پیشن گوئی کر رہا ہوں، کشمیر میں رد عمل پر پاکستان پر الزام لگایا جائے گا۔ پیشگوئی کرتا ہوں یہ پھر پاکستان پر الزام لگائیں گے اور کشمیریوں کی نسل کشی کریں گے۔ یہ لوگ کوشش کریں گے کشمیریوں کو نکال کر دیگر مذاہب کے لوگوں کو بسائیں، کشمیریوں کے رد عمل پر بھارت کشمیریوں کے لیے زمین تنگ کردے گا۔

انہوں نے کہا کہ پلوامہ واقعے کے بعد کئی بار کہہ چکا ہوں ایٹمی طاقتیں ایسے رسک نہیں لے سکتیں۔ ایٹمی قوتیں کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتیں، مسائل بیٹھ کر حل کیے جاتے ہیں۔ کئی بار کہہ چکا ہوں ہمیں اپنے مسائل مذاکرات سے حل کرنے چاہئیں۔ بھارت نے کوئی ایکشن لیا تو جواب دیں گے۔ بھارت میں تکبر بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ بھارت حرکت کرے اور ہم خاموش رہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت یاد رکھے کچھ بھی کیا تو مکمل جنگ چھڑ سکتی ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان روایتی جنگ ہوسکتی ہے۔ موجودہ حالات روایتی جنگ کی طرح جا سکتے ہیں، آج پھر کہتا ہوں ہمارے پاس صرف 2 ہی راستے ہوں گے، نیو ہتھیاروں کی دھمکی نہیں دے رہا، کامن سینس کی بات کر رہا ہوں۔ دنیا دیکھے بھارت عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیر رہا ہے۔ جنگ چھڑ گئی تو اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت سمجھتا ہے اب بھی انہیں کوئی نہیں روک سکتا، آج ہمارا واسطہ نسل پرست مخالفین سے ہے۔ یہ وہ انتہا پسند ذہنیت ہے جس نے مہاتما گاندھی کو قتل کیا، دنیا نے آج کردار ادا نہ کیا تو پھر ہم ذمہ دار نہیں ہیں۔ اس انتہا پسندی کو ختم کرنا ہوگا کیونکہ اس سطح پر جارہی ہے جو دنیا کو نقصان پہنچائے گی۔ اس معاملے کو ہر فورم پر لے کر جائیں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو ہر فورم پر بھرپور طریقے سے اٹھائیں گے، جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل میں معاملہ اٹھائیں گے۔ مودی سرکار نازیوں جیسی حرکتیں کر رہی ہے۔ بدقسمتی سے نقصان مسلمانوں کا ہو رہا ہے اس لیے دنیا رسپانس نہیں دے رہی۔ یہ کھیل اور آگے جائے گا تو مستقبل میں نقصان کے ذمہ دار ہم نہیں ہوں گے۔ مغربی دنیا کہتی تھی نازیوں نے نسل کشی کی، مغربی دنیا کو مسلمانوں کی نسل کشی نظر نہیں آرہی۔ ’ہم بالکل خاموش نہیں بیٹھیں گے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اٹھائیں گے‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں