site
stats
شاعری

پُہنچے ہے ہم کو عِشق میں آزار ہرطرح

پُہنچے ہے ہم کو عِشق میں آزار ہر طرح
ہوتے ہیں ہم ستم زدہ بیمار ہر طرح

ترکیب و طرح، ناز و ادا، سب سے دل لگی
اُس طرحدار کے ہیں گرفتار ہر طرح

یوسفؑ کی اِس نظیر سے دل کو نہ جمع رکھ
ایسی متاع، جاتی ہے بازار ہر طرح

جس طرح مَیں دِکھائی دِیا ،اُس سے لگ پڑے
ہم کشت و خُوں کے ہیں گے سزاوار ہر طرح​

 چُھپ، لگ کے بام و دَر سے، گلی کوُچے میں سے، میرؔ
مَیں دیکھ لوُں ہُوں یار کو ، اِک بار ہر طرح

********
Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top