پُہنچے ہے ہم کو عِشق میں آزار ہرطرح -
The news is by your side.

Advertisement

پُہنچے ہے ہم کو عِشق میں آزار ہرطرح

پُہنچے ہے ہم کو عِشق میں آزار ہر طرح
ہوتے ہیں ہم ستم زدہ بیمار ہر طرح

ترکیب و طرح، ناز و ادا، سب سے دل لگی
اُس طرحدار کے ہیں گرفتار ہر طرح

یوسفؑ کی اِس نظیر سے دل کو نہ جمع رکھ
ایسی متاع، جاتی ہے بازار ہر طرح

جس طرح مَیں دِکھائی دِیا ،اُس سے لگ پڑے
ہم کشت و خُوں کے ہیں گے سزاوار ہر طرح​

 چُھپ، لگ کے بام و دَر سے، گلی کوُچے میں سے، میرؔ
مَیں دیکھ لوُں ہُوں یار کو ، اِک بار ہر طرح

********

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں