site
stats
خیبر پختونخواہ

قبائلی علاقے میں پولیو کیسز کی شرح صفرپرپہنچ گئی

پشاور: قبائلی علاقے میں پولیو کے قطرے پالنے سے انکار اور پولیو کیسز کی شرح میں حیرت انگیز کمی آئی ہے اور انتظامیہ کی جانب سے کوششیں جاری ہیں کہ سال2016 کے اختتام تک قبائلی علاقہ پولیو کی لعنت سے پاک ہوجائے۔

تین دہائیوں سے افراتفری، تشدد اورعدم استحکام کے حالات سے گزرنے کے بعد اب جب نیا قبائلی علاقہ، نئی ترقی، سوچ اوربہترسہولیات کے ساتھ منظرعام پرنمودارہونے کو ہے تو جہاں 2014 میں 179 پولیو کیسیز رپورٹ ہونے سے دنیا میں سب سے زیادہ پولیو کیسیز رپورٹ ہونے والا علاقہ مئی 2016 تک صفر کیس تک پہنچ چکا ہے۔

01

قبائلی علاقے میں پولیو کیسز کے خاتمے کی تصدیق ایمرجنسی آپریشن سنٹر قبائلی علاقہ جات کے میڈیا آفیسر عقیل احمد نے اے ار وائے نیوز (ویب) سے گفتگو کرتے ہوئے کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’جہاں پولیو کیسزصفر تک پہنچا ہے وہیں قبائل میں پولیو سے بچاؤ اورقطرے پلانے کے حوالے سے سوچ میں بھی تبدیلی آرہی ہے، 2014میں بیشتر قبائلی علاقوں تک رسائی نہ ہونے کے سبب پولیو قطرے پلانے سے انکار اوررسائی نہ ہونے کے کیسزز کی تعداد 33،0618 یعنی 31 فیصد تھی جو اب مئی 2016میں کم ہوکر ایک فیصد سے بھی کم ہوگئی ہے‘‘۔

07

انہوں نے بتایا کہ ’’مئی 2016 میں قبائلی علاقوں میں پولیو کے قطرے پلانے کا ٹارگٹ 96،5675 تھا جن میں صرف 247 انکاراور 3725عدم رسائی کے کیسز سامنے آئے ہیں ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جنوبی وزیرستان کے علاقے سروکئی، سراروغا اورلدھا کو بھی پولیو ٹیموں کے لئے کھول دیا گیا ہے جس سے عدم رسائی کے کیسوں میں مزید کمی اور قطرے پلانے کی شرح میں اضافہ ہوگا‘‘۔

عقیل احمد کے مطابق جہاں ان کے لئے یہ بات باعث اطمینان ہے تو وہیں وہ بہت حد تک محتاط بھی ہوگئے ہیں کیونکہ قبائلی علاقوں کی سرحد جہاں ایک طرف افغانستان سے تو دوسری طرف خیبرپختونخواہ سے متصل ہے جہاں پولیو کیسزابھی بھی رپورٹ ہورہے ہیں اورقبائلی علاقہ دونوں میں رابطے کا ذریعہ ہے اور یہی سے بچوں کا گزرہوتا ہے لہذا پاک افغان سرحد، قبائلی علاقہ اورخیبرپختونخواہ سرحد پربچوں کو قطرے پلانے کا بندوبست کیا گیا ہے اوراس کی مانیٹرنگ بھی کی جارہی ہے۔

PIC 01

ایک رپورٹ کے مطابق 2016میں افغانستان میں پانچ اورخیبر پختونخواہ میں چھ کیسیز سامنے آئے ہیں جبکہ پاکستان کے دیگرعلاقوں میں بلوچستان میں ایک، سندھ میں چارجبکہ پنجاب، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر میں کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ اس طرح پاکستان اس سال مئی تک کل گیارہ کیسزسامنے آئے ہیں۔

قبائلی علاقوں کی طرح خیبر پختونخواہ میں بھی 2014میں پولیو کیسز کی تعداد 68 تھی جو 2016میں گھٹ کچھ تک آگئی ہے۔

خیبرپختوںخواہ کے لئے پولیو ایمرجنسی اپریشن سنٹر سے منسلک اکبرخان کاکہنا ہے کہ ’’مئی 2016میں 55لاکھ بچوں کو پولیو قطرے پلانے کا ٹارگٹ تھا لیکن 56لاکھ کو یہ قطرے پلائے گئے کیونکہ گرمیوں کے باعث خیبر پختونخواہ کے پہاڑی اور سیاحتی علاقوں کو آنے والے بچوں کو بھی یہ قطرے پلائے گئے اور ان کا اندراج کیا گیا ہے‘‘۔

05

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخواہ میں انکاراورعدم رسائی کے 5096کے کیسیز سامنے آئے ہیں جبکہ پولیو کییسیز کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ بنوں میں تین اور پشاور، نوشہرہ اور ہنگو میں ایک ایک کیس سامنے آیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے جو کوشش ہورہی ہے اس میں یہ تعداد ثابت کرتی ہے کہ نتائج حوصلہ افزا ہیں اوروہ اپنے اہداف حاصل کرتے ہوئے 2016 میں پولیو کیس زیرو تک لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

10

سیکرٹری لاء اینڈ آرڈر برائے قبائلی علاقہ جات شکیل قادر نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ’’قبائلی علاقوں میں شمالی و جنوبی وزیرستان میں آپریشن کے بعد حالات میں بہتری آئی ہے اور قبائلی علاقوں میں استحکام اور ترقی کا نیا دور شروع ہوچکا ہے، حکومتی عمل داری قائم ہوچکی ہے اور نقل مکانی کرنے والے واپس آرہے ہیں اور ان حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عام قبائل کو مذہب اورکلچرکے تناظر میں پولیو قطروں کی افادیت سے آگاہ کیا گیا ہے اورطالبان دورمیں جو پروپیگنڈہ کیا گیا تھا وہ دور کر کے ان کو پولیو قطرے پلانے پررضامند کیا گیا۔ قبائل نے پولیو کے قطروں کی افادیت کو قبول کیا اور یہی وجہ ہے پولیو قطرے پلانے سے انکارکی شرح ایک فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے‘‘۔ شکیل قادر نے اپنے مضمون میں دعویٰ کیا ہے کہ جلد پاکستان کاقبائلی علاقہ پولیو جیسے موذی مرض سے پاک ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top