انتخابات سے قبل میثاق معیشت پر متفق ہونا ضروری ہے: وزیر خزانہ -
The news is by your side.

Advertisement

انتخابات سے قبل میثاق معیشت پر متفق ہونا ضروری ہے: وزیر خزانہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کا کہنا ہے کہ آئندہ سال چھٹا بجٹ پیش کر کے تاریخ رقم کریں گے۔ انتخابات سے قبل میثاق معیشت پر متفق ہونا ضروری ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کی۔

پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ آئندہ سال کا بجٹ موجودہ بجٹ سے 11 فیصد زیادہ ہے۔ اپنے وسائل کو سامنے رکھتے ہوئے کام کرنا ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ جی ڈی پی کی گروتھ 6 فیصد رکھی ہے۔ افراط زر 6 فیصد سے کم رکھی جائے گی۔ بجٹ خسارے سے زیادہ ترقیاتی بجٹ ہوگا۔

مزید پڑھیں: مالی سال 18-2017 کا بجٹ پیش

اسحٰق ڈار نے کہا کہ قرض لے کر ترقیاتی کام کرنا کوئی بری بات نہیں ہے۔ تجارتی اور بجٹ خسارے کے باوجود ترقیاتی کاموں کا بجٹ زیادہ رکھا۔ پانچویں بجٹ میں دفاع کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔

ان کے مطابق جی ڈی پی میں قرضوں کی شرح 60 فیصد سے نیچے رکھی جائے گی۔ بجلی کی فراہمی بہتر اور لوڈ شیڈنگ ختم کی جائے گی۔ غربت کے خاتمے کے لیے بجٹ میں 121 ارب کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ٹیکس وصولیوں میں 14 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ غیر ترقیاتی بجٹ کو افراط زر کی شرح سے کم رکھا جائے گا۔ زراعت، روزگار، سرمایہ کاری کے لیے مراعات کا اعلان کیا ہے۔ آئی ٹی کے شعبہ میں 2 لاکھ نوجوان کام کر رہے ہیں۔ 10 لاکھ افراد کو آئی ٹی ٹریننگ دی جائے گی۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ زراعت کے لیے اسپیشل اسکیم کا اعلان کیا گیا ہے۔ کسانوں کو سستے قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ قرض کی فراہمی اسٹیٹ بینک کی ذمہ داری ہے۔ کسانوں کے لیے رواں سال کھاد کا پیکج بھی جاری رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ٹیوب ویل کی سستی بجلی کے لیے 27 ارب کی سبسڈی دی جائے گی۔ پولٹری کے لیے بھی مراعات دی گئی ہیں۔ تعمیرات کے لیے بھی اسکیمز دی جائیں گی۔

مزید پڑھیں: مالی سال 17-2016 کا اقتصادی جائزہ

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ 500 ارب کے ٹیکسز لگانے کا تاثر غلط ہے، 120 ارب کے ٹیکس لگائے ہیں۔ ڈیویڈنڈ پر ٹیکس میں اضافہ اس لیے ہے کیونکہ مارکیٹ میں ٹریڈنگ بڑھ گئی ہے۔ نان فائلر کی زندگی مشکل کی ہے اور ضرور کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ دودھ پر نیا ٹیکس لگانے کا تاثر غلط ہے۔ برآمدات اور ٹیکسائل کے لیے رواں سال کا پیکج جاری رہے گا۔ ہاؤسنگ کے شعبے کے لیے مراعات ہیں جبکہ پاکستان ڈیولپمنٹ فنڈ کو فعال کردیا گیا ہے۔ اس سال 125 ارب روپے تنخواہوں کی مد میں دیا جائے گا۔

اسحٰق ڈار کے مطابق اسلام آباد میں تارکین وطن کے لیے زمین مختص کی گئی ہے۔ تارکین وطن براہ راست اسٹیٹ بینک کو ادائیگی کریں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز وفاقی حکومت نے سال 18-2017 کا 5 ہزار 310 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا ہے۔


Comments

comments

یہ بھی پڑھیں