The news is by your side.

Advertisement

حکومت مخالف تحریک: پی پی پی ارکان سندھ اسمبلی کو استعفے جمع کرانے کی ہدایت

کراچی: حکومت مخالف تحریک میں استعفوں کے معاملے پر مخمصے کا شکار پیپلز پارٹی نے بڑا فیصلہ کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے ارکان سندھ اسمبلی سے استعفے طلب کرلئے ہیں، سندھ اسمبلی کے ارکان کو استعفےبلاول ہاؤس جمع کرانےکی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔

ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ ارکان سندھ اسمبلی تحریری استعفےاسپیکر کےنام بھیجیں، استعفے چودہ دسمبر تک بلاول ہاؤس میں جمع کرائے جائیں۔

اس سے قبل پیپلزپارٹی کے اراکین پارلیمان اسممبلیوں سے استعفے کے فیصلوں پر تقسیم ہوگئے تھے، بعض پی پی اراکین پارلیمان نے استعفے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، اراکین کا موقف تھا کہ دوسری جماعت کے دباؤ پراستعفےکا فیصلہ درست نہیں، پی پی کسی جماعت کی خواہش کی تکمیل کے لیے قربانی نہ دے، پی پی نے ماضی میں ہمیشہ استعفوں کی مخالفت کی۔اراکین کا کہنا ہے کہ استعفوں کی صورت میں کارکنوں میں مایوسی پھیلے گی، استعفوں سے نتیجہ نہ نکلا تو کیا کریں گے، اسمبلیوں سےاستعفی عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے، پیپلزپارٹی اراکین اسمبلی کا کہنا ہے کہ پارلیمان میں رہ کر حکومت کو ٹف ٹائم دیا جائے۔

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں میزبان کاشف عباسی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اپوزیشن نے استعفے دیئے تو فائدہ حکومت کو ہوگا، پنجاب میں اپوزیشن استعفے دیتی ہے تو عمران خان کو زیادہ نشستیں مل جائیں گی۔

پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے اراکین مستعفی ہوتے ہیں تو الیکٹورل کالج بنتا ہے لیکن انہیں اس کا فائدہ نہیں ہوگا، اپوزیشن استعفے دیتی ہے تو اس سے صرف حکومت کا فائدہ ہوتا ہے اور اپوزیشن کا نقصان، اسمبلیاں استعفوں سے تحلیل نہیں ہوا کرتیں۔اعتزاز احسن نے کہا کہ کورم اسمبلی ہے قانون سازی کرسکتے ہیں لیکن آئینی ترمیم نہیں کرسکتے،150استعفے بھی آجائیں تو قومی اسمبلی موجود رہتی ہے، پنجاب میں اپوزیشن استعفے دیتی ہے تو عمران خان کو زیادہ نشستیں مل جائیں گی، سندھ میں استعفے دیئے جاتے ہیں تونگراں وزیراعلیٰ آکر بیٹھے گا۔

اعتزازاحسن نے بتایا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد ایک خاص ترمیم کی گئی تھی، ترمیم سے پہلے یہ طے تھا کہ استعفیٰ دینے والا مستعفی سمجھا جائے گا، اب طریقہ کار اس طرح ہے کہ مستعفی رکن کو بلوا کرتصدیق کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسمبلیوں سے استعفوں پر پیپلزپارٹی میں اختلافات

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے استعفے منظور کرنے میں ایازصادق نے ایک سال لگادیا تھا، استعفے لے کر پی ڈی ایم قیادت نے دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے، پی ڈی ایم قیادت استعفے دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرے گی، استعفے بھجوانے کے بعد ان کے تصدیقی عمل میں بھی وقت لگتا ہے۔

،اعتزازاحسن کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اراکین اسمبلی کو استعفے دینے چاہئیں یا نہیں اس سلسلے میں پارٹی سے مشاورت کروں گا، پیپلزپارٹی کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں قیادت ہی حتمی فیصلہ کرے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں