The news is by your side.

Advertisement

برطانوی ملکہ لیڈی ڈیانا کے گھر وویک اینڈ پر رہائش کی قیمت مقرر

لندن : برطانوی پرنس لیڈی ڈیانا کے گھر ایک ہفتے قیام کی قیمت 175 ہزار پاؤنڈز مقرر کردی گئی ہے، اس ادائیگی کے عوض مہمان ویک اینڈ پر اس گھر میں قیام کرسکیں گے اور مرحومہ کے پرانے کمرے میں سو بھی سکیں گے۔

تفصیلات کے مطابق لیڈی ڈیانا کے پرستاروں کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ اگر وہ پرنسس ڈیانا انگلینڈ کے مرکزی علاقے التھروپ نارتھ اپیتھن شائر میں واقع رہائش گاہ میں وویک اینڈ پر رہائش اختیار کرنا چاہتے ہیں تو 175 ہزار پاؤنڈز ادائیگی کے عوض اس محل میں رہائش اختیار کرسکتے ہیں۔

اس بات کا اعلان لیڈی ڈیانا کے بھائی ایرل چارلس نے غیر ملکی خبررساں ادارے این بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا کہ ’’ ہم نے سوچا کہ دنیا بھر میں موجود بچوں کی مدد کے لیے یہ گھر بہت مدد گار ثابت ہوسکتا ہے تو اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے 30 کمروں پر مشتمل اس محل کو 1988 میں لیڈی ڈیانا کے انتقال کے ایک سال بعد عوام کے لیے کھول دیا تھا۔

Diana1

انہوں نے مزید بتایا کہ رہائش کے دوران مہمان گرامی کو پرنسس ڈیانا کے کمرے میں سونے کی اجازت بھی ہوگی، وہ گروپس جن کے ممبران کی تعداد 18 ہوگی وہ ایک ہفتے کی عارضی رہائش اختیار کرنے کے175 ہزار پاؤنڈز ادا کریں گے جبکہ شادی شدہ جوڑے کو خصوصی رعایت دی گئی ہے، جس میں وہ ویک اینڈ میں رہائش کے لیے 25 ہزار پاؤنڈز کی ادائیگی کر کے رہائش اختیار کرسکیں گے۔

Diana2

انٹرویو میں انہوں مزید نے بتایا کہ یہ گھر ان کے یعنی پرنسس لیڈی ڈیانا کے بھائی ایرل چارلس سپینسر اور ان کی بیوی کاؤنٹیس کرین سپینسر کی ملکیت ہے، اس گھر سے حاصل ہونے والی رقم جمع کر کے لیڈی ڈیانا کے فلاحی ادارے کو دی جاتی ہے، جو دنیا بھر میں بچوں کی فلاح و بہبود اور تعلیم کے لیے اقدامات کررہا ہے۔

ادارے کے فلاحی کام کو تیز کرنے کے لیے اس کی رقم کو بڑھایا جائے گا، جس کے لیے اس محل میں مزید 90 کمرے بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس انٹرویو کو اتوار کی رات این بی سی ٹی وی پر نشر کیا جائے گا۔

واضح رہے پرنسس ڈیانا کو اسٹیٹ اوول میں واقع جھیل کے قریب 13 ہزار ایکڑ کے جزیرے میں دفن کیا گیا تھا۔

اس مقام پر پرنسس لیڈی ڈیانا، پرنسس ولیم اور کلنٹن کی والدہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک خصوصی طور پر ایک یادگار بھی بنائی گئی ہیں جہاں دنیا بھر سے آنے والے زائرین اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں