The news is by your side.

Advertisement

پاکستان نے ریسرچ کے میدان میں بھارت کوبھی پیچھے چھوڑدیا، پروفیسرعطاءالرحمن

ہائر ایجوکیشن کے قیام کے بعد ریسرچ میں تیزی سے آئی، ان ہمارا مقابلہ چائنا سے ہے، سائنس و ٹیکنالوجی کا بجٹ 20ارب کردیا

کراچی : سائنس و ٹیکنالوجی کے سابق وفاقی وزیر چئیرمین وزیرِ اعظم ٹاسک فورس برائے سائنس و ٹیکنالوجی ،ممتاز سائنس دان پروفیسر عطا الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان نے ریسرچ کے میدان میں بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

ہائر ایجوکیشن کے قیام کے بعد ریسرچ کے کام میں کافی تیزی سے آئی،سال 2001میں بھارت ہم سے آگے تھا، اب ہم نے اسے پیچھے چھوڑ دیا ہے، اب ہمارا مقابلہ چائنا سے ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈاﺅ یونیورسٹی کے اوجھا کیمپس میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے اشتراک سے ساتویں انٹرنیشنل کانفرنس آن انڈورسنگ ہیلتھ سائنس ریسرچ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے پہلے ایک ارب دیئے گئے اب بجٹ بڑھا کر20ارب کر دیا گیا ہے، مگر ہمیں پرائمری ہیلتھ کیئر کی سہولتوں کو بڑھانا ہوگا، صاف پانی کی فراہمی کے ساتھ اس کے استعمال کے بارے میں آگاہی دینے کی ضرورت ہے تاکہ انفراسٹرکچر نہ ہو تو لوگ اپنے طور پر صاف پانی استعمال کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ریسرچ کے شعبے میں نجی شعبے کا حصہ بہت کم ہے، چین میں نجی شعبہ ریسرچ پر 60فیصد خرچ کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم صرف قدرتی اور بعض صنعتی اشیا کی برآمدات کی فکر میں رہتے ہیں، جبکہ سائنس و ٹیکنالوجی کی ایکسپورٹ کے ذریعے ہم بہت زیادہ زرِ مبادلہ کما سکتے ہیں۔

گذشتہ ادوار میں سائنس و ٹیکنالوجی کو نظر انداز کرکے ہم نے نقصان اٹھایا ہے۔ کانفرنس سے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی ، پروفیسر ٹیپو سلطان، منسٹری آف ہیلتھ سے ڈاکٹر عابد علی، ایڈوانس ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ کی سی ای او ڈاکٹر صدف احمد نے بھی خطاب کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں