The news is by your side.

Advertisement

بارسلونا: مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں، 20 افراد زخمی

بارسلونا: اسپین کی سپریم کورٹ نے کاتالونیا کے پانچ رہنماؤں کی مدتِ ضمانت ختم ہونے سے قبل ہی گرفتاری کا حکم جاری کردیا، عدالتی فیصلے کے خلاف جمعے کی شب بارسلونا میں ریاست کاٹالونیا کے ہزاروں شہریوں نے کاٹلین علیحدگی تحریک کی قیادت کے حق میں مظاہرے کیے۔

تفصیلات کے مطابق اسپین کے شہر میڈرڈ میں واقع سپریم کورٹ نے کاتالونیا کی علیحدگی پسند تحریک کے  صدارتی الیکشن کے امیدوار سمیت پانچ سربراہوں کو گرفتار کرکے جیل منتقل کردیا گیا ہے۔

اسپین کی عدالت نے پانچوں علیحدگی پسند رہنماؤں پر ملک سے بغاوت، حکومت کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کرنے اور عوام کو تشدد پر اُکسانے کے مقدمات کے تحت گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ ججز کا موقف تھا کہ پانچوں رہنما اسپین کے امن و امان کے لیے بہت خطرناک ہے۔

یورپ کی کاتلین قوم پرست جماعت نے اسپین کی سپریم عدالت کے ان احکامات کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تمام رہنماوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان پر لگائے گئے تمام مقدمات ختم کیے جائیں۔

جمعے کے روز ہزاروں کاتلین قوم پرستوں نے اسپین کے دارالحکومت بارسلوںا شہر کے قلب میں شدید احتجاج کیا اور اسپین کی عدالت اور حکومتی اقدامات کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔

دوران احتجاج مشتعل مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں بھی ہوئیں۔ پولیس نے مشتعل مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔ ان جھڑپوں کے باعث 20 سے زائد مظاہرین کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔

یاد رہے کہ یہ مظاہرے ’کاتالین حکومت کے سابق ترجمان اور صدارتی انتخابات کے امیدوار جورڈی تورول، سابق وزیر برائے ترقی جوزف رول، کاتالین پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر کارمی فورسڈیل، امور خارجہ کے سربراہ راؤل رومیوا‘ سمیت آٹھ رہنماوں کے وارنٹ جاری ہونے بعد شروع تھے۔

یاد  رہے کہ سن 2014 سے اسپین کی ذیلی ریاست کاٹالونیا کے شہری اسپین سے آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں۔ گذشتہ ماہ بھی بارسلونا میں لاکھوں افراد نے ریاست کاتالونیا کی اسپین سےعلیحدگی کے حق میں مظاہرہ کیا تھا۔ ان مظاہرہ کا آغاز 2014 میں بارسلونا سے ہوا  تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں