The news is by your side.

Advertisement

نقیب اللہ کی ہلاکت: گلوکارہ رابی پیر زادہ رنجیدہ، سالگرہ نہ منانے کا اعلان

لاہور: پاکستانی اداکارہ اور گلوکارہ رابی پیرزادہ نے کراچی میں پولیس کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں مارے جانے نوجوان نقیب اللہ کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنی سالگرہ  منسوخ کرنے کا اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں 13 جنوری کو جعلی پولیس مقابلے میں مارے جانے والے خوبرو نوجوان نقیب اللہ کی ہلاکت پر سارا پاکستان افسردہ ہے۔

پاکستانی گلوکارہ رابی پیرزادہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر نقیب اللہ محسود کی ہلاکت پر انتہائی رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’جعلی پولیس مقابلے میں نوجوان کی  موت نے ساری قوم کو جنجھوڑ کر رکھ دیا‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ نقیب  کو جس طرح جعلی مقابلے میں مارا گیا اُس کے بعد سے لوگوں کا پولیس پر سے اعتماد ختم ہوچکا، وہ میرا بھائی اور اس قوم کا بیٹا تھا‘۔

پاکستانی گلوکارہ کا کہنا ہے کہ ’اگر کوئی شخص مجرم بھی ہے تو اُسے عدالت میں پیش کیا جاتا ہے نہ ہی قانون نے اُسے حراست میں قتل کرنے کی اجازت دی ہے‘۔

رابی پیرزادہ کا کہنا تھا کہ مجھے نقیب کی جواں سالہ موت پر بہت گہرا صدمہ ہوا جس کی وجہ سے میں اپنی 3 فروری کو ہونے والی سالگرہ نہیں مناؤں گی‘۔

گلوکارہ نے اعلان کیا کہ ’مجھے معلوم ہے بھائی تم بے قصور تھے اس لیے فیصلہ کیا کہ اپنا اگلہ پشتو گانا تمھارے نام پر بناؤں، میں کشمیری ہوں مگر یہ بھی سمجھتی ہوں کہ پختونوں کے بغیر پاکستان کا وجود نامکمل ہے‘۔

واضح رہے 13 جنوری کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی سربراہی میں خطرناک ملزمان کی گرفتاری کے لیے شاہ لطیف ٹاؤن میں چھاپے کے لیے جانے والی پولیس پارٹی پر دہشت گردوں نے فائرنگ کردی تھی جس پر پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، ہلاک ہونے والوں میں نوجوان نقیب اللہ بھی شامل تھا۔

نوجوان کی مبینہ ہلاکت کو سوشل میڈیا پر شور اٹھا اور مظاہرے شروع ہوئے تھے، بلاول بھٹو نے وزیرداخلہ سندھ کو واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا، جس کے بعد ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں تفتیشی ٹیم نے ایس ایس پی ملیر سے انکوائری کی۔

اعلیٰ سطح پر بنائی جانے والی تفتیشی ٹیم نے راؤ انوار کو عہدے سے برطرف کرنے اور نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی سفارش کی، جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے انہیں عہدے سے برطرف کردیا گیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں