The news is by your side.

روس سے مذاکرات کے لیے یوکرینی صدر نے اہم شرط رکھ دی

کیف: یوکرینی صدر نے ماسکو کے ساتھ تصفیہ طلب بات چیت کرنے کا  عندیہ دیتے ہوئے بڑا مطالبہ کردیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے کہا کہ ہم روس سے بات چیت کے لئے تیار ہیں لیکن پیوٹن کے علاوہ کسی دوسرے روسی صدر کے ساتھ بات چیت ہو سکتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ جب تک پیوٹن صدر ہیں، کوئی مذاکرات نہیں ہوسکتے۔

زیلنسکی کا کہنا تھا کہ یوکرین نے نیٹو میں فوری شمولیت کے لیے ہنگامی بنیادوں پر درخواست جمع کرائی ہے، کیونکہ صرف یوکرین کو مضبوط کرنے اور قابضین کو ہمارے پورے علاقے سے نکالنے کا راستہ ہی امن بحال کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  یوکرین کا اقوام متحدہ سے روس کا ’’ویٹو پاور‘‘ ختم کرنے کا مطالبہ

انہوں نے شکوہ کیا کہ جس طرح سویڈن اور فن لینڈ کی نیٹو میں رکنیت کی درخواست کو تیز رفتاری سے قبول کیا گیا، اگر یوکرین کے ساتھ ایسا کیا جاتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ عالم برادری نے منصفانہ فیصلہ کیا، مگر ہمیں کہ دیا گیا کہ ایسا نہیں ہوسکتا ، خود مغربی میڈیا نے اس اقدام کو عملی سے زیادہ علامتی قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ یوکرین نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ روس کو یوکرین پر حملے کے لیے سزا دے اور سلامتی کونسل میں اسکا ویٹو پاور اختیار ختم کرے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق صدر زیلنسکی کا یہ بیان روسی صدر کے اس بیان کے بعد سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے یوکرین میں فوج کو مزید متحرک کرنے اور جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی دی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں